نریندر مودی سیاسی تشہیر کے لیے سرکاری نظام کا غلط استعمال کر رہے ہیں: ممتا بنرجی

Wait 5 sec.

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے سرکاری نظام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم کا قوم سے خطاب دراصل انتخابی مہم کا حصہ تھا، جسے سرکاری پلیٹ فارم کے ذریعے پیش کیا گیا۔ہگلی ضلع کے تارکیشور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی سربراہ ہونے کے ناطے وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں اور اسے جمہوری اقدار کے خلاف سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے خواتین ریزرویشن قانون کے حوالے سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے حق میں غیر مناسب انداز میں ماحول بنانے کی کوشش کی، جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’کل جس طرح سرکاری نظام کو سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا، ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اس معاملے کو الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کو عوام کے سامنے یہ وضاحت دینی چاہیے کہ آیا وہ سرکاری عہدے کا استعمال اپنی جماعت کے فائدے کے لیے کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے خواتین ریزرویشن قانون کے نفاذ میں تاخیر پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ قانون ستمبر 2023 میں منظور ہو چکا تھا، لیکن اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایک ہی قانون کو بار بار زیر بحث لانے کا مقصد کیا ہے؟ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟”انہوں نے مرکز کی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ حلقہ بندی کے عمل کو خواتین ریزرویشن قانون کے ساتھ جوڑ کر اس کے نفاذ کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ممتا بنرجی کے مطابق، یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی قدم ہے جس کے ذریعے اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔اپنی تقریر کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کے پاس ایوان میں مطلوبہ حمایت نہیں ہے، اس کے باوجود وہ قانون سازی کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بی جے پی کا زوال شروع ہو چکا ہے اور عوام اب حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں۔”مغربی بنگال کی سیاست میں اس بیان کے بعد ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ انتخابی مہم کا اہم موضوع بن سکتا ہے، خاص طور پر جب خواتین ریزرویشن جیسے حساس مسئلے کو لے کر مختلف جماعتیں اپنے اپنے موقف کو مضبوط کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔