تہران (18 اپریل 2026): ایران کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف جنگ بندی اور بعض شرائط کے تحت کھلا ہے، دشمن طاقتوں سے وابستہ بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے ’’مکمل طور پر کھلی‘‘ ہے، تاہم یہ اجازت لبنان میں جنگ بندی کی شرط کے مطابق ہے اور جہازوں کو پہلے سے طے شدہ روٹ پر چلنا ہوگا۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز ’’کھلی نہیں رہے گی۔‘‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی امن معاہدہ طے نہیں پا جاتا، اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ آبی گزرگاہ ’’کھلی ہے اور کاروبار کے لیے تیار ہے۔‘‘امریکا نے دوبارہ روسی تیل پر سے پابندیاں ہٹا دیںبی بی سی کے مطابق ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت میں بہت کم جہاز اس راستے سے گزرے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران ہر بات پر متفق ہو چکا ہے، جس میں افزودہ یورینیم کو ملک سے نکال کر امریکا منتقل کرنا بھی شامل ہے تاہم تہران نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔امریکی صدر ایک سفارتی کامیابی کا تاثر دے رہے ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی واضح اختلافات موجود ہیں، ایران کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 10 فی صد کمی آئی ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ قیمتوں پر اس کے اثرات جنگ کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ ایران کے فرانزک سربراہ کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد سے ایران میں 3,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لبنان میں 2,100 سے زیادہ، خلیجی ممالک میں 32، اور اسرائیل میں 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے جب کہ مزید 2 غیر جنگی وجوہ کی بنا پر ہلاک ہوئے۔