بیجنگ (18 اپریل 2026): امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ چین ایران کا افزودہ یورینیم تحویل میں لینے کے لیے تیار ہے۔نیوز ویک سمیت متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ بیجنگ کی سوچ سے واقف ایک سفارتکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ چین نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کی افزودہ یورینیم کو اپنی تحویل میں لینے یا اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے کے لیے تیار ہے، اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کا حصہ ہو۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے یورینیم ذخیرے کو ہٹانے پر زور دے رہی ہے، اے پی کے مطابق چین نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران درخواست کریں تو وہ افزودہ یورینیم تحویل لینے کو تیار ہے۔امریکا نے دوبارہ روسی تیل پر سے پابندیاں ہٹا دیںچین نے کہا درخواست پر تقریباً 970 پاؤنڈ افزودہ یورینیم تحویل میں لے سکتے ہیں، اور یہ یورینیم شہری استعمال کے قابل سطح تک افزودہ کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ اگر چین اس عمل میں باضابطہ کردار اختیار کر لیتا ہے تو اس سے ایران کے ساتھ جوہری سفارت کاری کی نوعیت بدل سکتی ہے، اور بیجنگ کو نتائج پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو جائے گا اور ساتھ ہی واشنگٹن اور تہران کے لیے آگے بڑھنے کا ایک ممکنہ راستہ بھی فراہم ہوگا۔رپورٹس کے مطابق فی الوقت ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کے حامی دکھائی دیتے ہیں کہ امریکا خود اس یورینیم کو اپنی تحویل میں لے، جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ گزشتہ موسمِ گرما میں امریکی فضائی حملوں کے دوران شدید نقصان کا شکار ہونے والی جوہری تنصیبات کے نیچے دفن ہے۔