واشنگٹن (18 اپریل 2026): امریکی محکمۂ خزانہ نے جمعہ کے روز روسی تیل کی ترسیل پر عائد پابندیوں میں دی گئی نرمی کو بڑھا دیا ہے تاکہ ایران کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی قلت کو کم کیا جا سکے، حالاں کہ چند روز قبل وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایسے اقدام کو مسترد کر دیا تھا۔اس چھوٹ کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ نے ممالک کو تقریباً ایک ماہ تک سمندر میں موجود جہازوں کے ذریعے روسی تیل خریدنے کی اجازت دی ہے، دوسری طرف قانون سازوں نے حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے دوران ماسکو کے ساتھ نرمی برت رہی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نام نہاد ’’جنرل لائسنس‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ تک ٹینکروں میں لادے گئے روسی تیل کی ترسیل پر 30 دن تک امریکی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔ اس کے ذریعے مارچ میں جاری کیے گئے اسی نوعیت کے 30 روزہ لائسنس میں توسیع کی گئی ہے، جو اس روسی تیل کے لیے تھا جو 11 مارچ تک جہازوں میں لادا جا چکا تھا۔اس توسیع سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ایران کی جنگ کے اثرات کی وجہ سے ماسکو کی توانائی کی برآمدات سے منافع کمانے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے، جو یوکرین پر حملے کے بعد سے محدود ہو گئی تھی۔دس ہزار سے زائد فوجی ایران کی بحری ناکہ بندی میں مصروفبدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے اس لائسنس میں توسیع کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا ’’ہم روسی تیل کے لیے جنرل لائسنس کی تجدید نہیں کریں گے، اور نہ ہی ایرانی تیل کے لیے جنرل لائسنس کی تجدید کریں گے۔‘‘ ٹرمپ انتظامیہ نے اس پالیسی میں اچانک تبدیلی کی فوری طور پر کوئی وضاحت نہیں دی۔روئٹرز کے مطابق محکمۂ خزانہ کی جانب سے دی گئی اس چھوٹ کے تحت ممالک جمعہ (17 اپریل) کے روز سے لے کر 16 مئی تک اُن بحری جہازوں پر لدا ہوا روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خرید سکتے ہیں۔ یہ اقدام 30 روزہ چھوٹ کی جگہ لے رہا ہے جو 11 اپریل کو ختم ہو گئی تھی، اور اس میں ایران، کیوبا اور شمالی کوریا سے متعلق لین دین شامل نہیں ہے۔یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایشیائی ممالک، جو عالمی توانائی بحران سے متاثر ہیں، واشنگٹن پر زور دے رہے تھے کہ متبادل سپلائی کو منڈیوں تک پہنچنے دیا جائے۔جمعہ کے روز عالمی تیل کی قیمتوں میں 9 فی صد کمی آئی اور یہ تقریباً 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئیں، جب ایران نے خلیج میں واقع اہم تیل گزرگاہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھول دیا۔ تاہم، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس جنگ نے پہلے ہی عالمی توانائی کی سپلائی میں تاریخ کی بدترین رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔یہ جنگ، جو ہفتہ کو اپنے آٹھویں ہفتے میں داخل ہو رہی ہے، مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس کی 80 سے زائد تنصیبات کو نقصان پہنچا چکی ہے، اور تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی حالیہ ناکہ بندی جاری رہی تو وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر سکتا ہے۔