مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان، امریکی میڈیا

Wait 5 sec.

اسلام آباد (18 اپریل 2026): امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی ہے، سی این این نے مذاکرات کے نئے دور سے متعلق ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وفود پیر کے روز مذاکرات کرنے جا رہے ہیں، تاہم امریکا نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ کوئی مذاکرات طے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن میں مذاکرات پیر کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔ سی بی ایس نیوز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے اعلیٰ امریکی حکام کو دوبارہ پاکستان بھیجنے پر غور کر رہی ہے، یہ مذاکرات پیر سے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔مذاکرات کے دوسرے دور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران ’’ہر بات پر متفق ہو چکا ہے‘‘، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ افزودہ یورینیم کو مشترکہ طور پر ملک سے نکال کر امریکا منتقل کیا جائے۔ تاہم ایک سینئر ایرانی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ کے بعض دعوے ’’متبادل حقائق‘‘ (یعنی غلط یا مسخ شدہ بیانیہ) ہیں۔مثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو تجسس میں ڈال دیااس اہلکار نے اس بات کی بھی تردید کی کہ تہران اپنا افزودہ یورینیم بیرونِ ملک بھیجے گا یا افزودگی کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دے گا، اور خبردار کیا کہ اس طرح کے عوامی بیانات جاری سفارت کاری کو مشکل بنا سکتے ہیں۔پاکستان کی قیادت میں جاری ثالثی عمل سے واقف ایرانی اہلکار نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی عوامی شیخی مذاکرات کے ناکام ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ ایران یہ سمجھ سکتا ہے کہ جہاں وہ ’’نتیجہ خیز سفارت کاری کے لیے پرعزم ہے‘‘، وہاں امریکا سفارتکاری کو محض وقت ضائع کرنے یا تھکا دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر ایک نئی جارحیت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کا ایران بھرپور اور سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ادھر اس نازک جنگ بندی کے تناظر میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے۔ انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر ایران کے جوہری مواد کو پرامن طریقے سے منتقل کرنے کا کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا اسے ’’زیادہ سخت اور غیر دوستانہ طریقے‘‘ سے حاصل کر لے گا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے پر بھی جمعہ کے روز اس اہم آبی راستے سے صرف چند ہی جہاز گزرے، حالاں کہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ یہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ اگر امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم نہ کرے تو آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی جائے گی۔