ہم ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ حاصل کریں گے، امریکی صدر ٹرمپ

Wait 5 sec.

واشنگٹن (18 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز روئٹرز کو بتایا کہ امریکا ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ حاصل کرے گا، اور ایران کے ساتھ مل کر اس کے افزودہ یورینیم کو نکالے گا اور اسے واپس امریکا لے آئے گا۔انھوں نے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا ’’ہم اسے اکٹھا کریں گے، ہم ایران کے ساتھ مل کر، آرام دہ رفتار سے، اندر جائیں گے اور بڑی مشینری کے ساتھ کھدائی شروع کریں گے اور ہم اسے امریکا لے آئیں گے۔‘‘انھوں نے ’’جوہری دھول‘‘ (نیوکلیئر ڈسٹ) کا ذکر کیا اور کہا کہ اسے ’’بہت جلد‘‘ نکال لیا جائے گا۔ تاہم ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنا افزودہ یورینیم امریکا کو منتقل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بعد میں سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ایران کا افزودہ یورینیم کہیں بھی منتقل نہیں کیا جائے گا، امریکا کو یورینیم منتقل کرنا ہمارے لیے کبھی بھی کوئی آپشن نہیں رہا۔‘‘یورینیم ہماری سرزمین جتنا مقدس ہے، کہیں منتقل نہیں ہوگا، ایرانٹرمپ کی جانب سے ’’نیوکلیئر ڈسٹ‘‘ کا ذکر دراصل اس چیز کی طرف اشارہ ہے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد باقی رہ گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس 900 پاؤنڈ سے زیادہ یورینیم موجود ہے جسے 60 فی صد تک افزودہ کیا گیا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے سب سے پیچیدہ مسائل میں سے ایک رہا ہے۔فینکس میں تقریب سے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بی ٹو طیاروں کی بمباری سے پیدا شدہ نیو کلیئر ڈسٹ ایران سے حاصل کی جائے گی، ایران میں بی ٹو بمبار طیاروں نے جوہری صلاحیت ختم کر دی ہے، اب امریکا ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ بھی حاصل کرے گا، اس بات پر اتفاق کر لیا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے، تباہ کیے گئے جوہری پلانٹ کی باقیات بھی واپس لائیں گے۔چین ایران کی افزودہ یورینیم تحویل میں لینے کے لیے تیار ہے، ایسوسی ایٹڈ پریسٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کی ایک بڑی وجہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھی۔ جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ یورینیم کی افزودگی، جو کہ مدت کے لحاظ سے بجلی گھروں کے ایندھن یا جوہری ہتھیار دونوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، صرف پُرامن شہری مقاصد کے لیے کی جا رہی ہے۔ایک رپورٹ کے جواب میں کہ امریکا یورینیم کے بدلے 20 ارب ڈالر دینے کے معاہدے پر غور کر رہا ہے، ٹرمپ نے کہا ’’یہ بالکل غلط ہے۔ کوئی رقم کا لین دین نہیں ہو رہا۔‘‘