ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کو لے کر سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک اوبرائن نے چیف الیکٹورل آفیسر کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے سی آر پی ایف جوانوں پر الزام لگایا کہ وہ بی جے پی امیدواروں کے ساتھ گھومنے، پرچے بانٹنے اور ووٹروں کو بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کے لیے متاثر کر رہے ہیں۔ ٹی ایم سی لیڈر نے اسے الیکشن کمیشن کے ’ فورس ڈپلائمنٹ ان الیکشنس مینول 2023 ‘، عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 اور تعزیرات ہند، 2023 کی خلاف ورزی بتایا۔درگاپور میں بی جے پی کا آدھی رات کو تھانے پر دھاوا، پولیس کے ساتھ جھڑپ، ٹی ایم سی کارکنوں سے تنازعہ کے بعد کشیدگی’این ڈی ٹی وی‘ کی خبر کے مطابق ڈیرک اوبرائن نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مبینہ ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سی آر پی ایف اہلکار بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ سی آر پی ایف جوانوں کا یہ رویہ مجرمانہ دھمکی اور انتخابی عمل کے دوران غیر مناسب اثر (دفعہ 174 ) کے تحت جرم ہے۔ اس سے رائے دہندگان میں خوف کا ماحول پیدا ہورہا ہے اور آزادانہ ووٹنگ کا حق متاثر ہورہا ہے۔بنگال انتخابات سے قبل ممتا بنرجی کا الزام- ’ٹی ایم سی بوتھ ایجنٹوں کی گرفتاری کی سازش‘ٹی ایم سی لیڈر نے زور دے کر کہا کہ مرکزی فورسز کے لیے انتخابی ڈیوٹی کے دوران مکمل غیر جانبداررہنا لازمی ہے۔ کسی بھی پولیس فورس کے اہلکار کو ووٹروں کو کسی پارٹی کے حق میں متاثر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے چیف الیکٹورل آفیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ سی آر پی ایف اہلکاروں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا جائے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات دیئے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تمام مرکزی فورسز کو مغربی بنگال میں غیر جانبداری برقرار رکھنے اور الیکشن کمیشن کے قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی جائے۔