مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) تنازعہ کے درمیان سپریم کورٹ نے آرٹیکل 142 کا استعمال کرتے ہوئے اہم حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ نام ہٹانے کے خلاف جن لوگوں کی اپیل پر ٹریبونل فیصلہ دے دے گا، وہ لوگ بنگال انتخاب میں اپنے ووٹ کا استعمال کر سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے 34 لاکھ سے زائد زیر التوا اپیلوں کو دیکھتے ہوئے واضح ڈیڈ لائن مقرر کی ہے، تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر ووٹ دینے سے محروم نہ رہے۔#BREAKING| West Bengal SIR : Supreme Court Allows Excluded Persons To Vote If Appeals Allowed Before April 21/27However, no voting right just because appeal is pending : SC clarified#SupremeCourt #WestBengal #SIR #ElectionCommisison https://t.co/KVjtiA13lV— Live Law (@LiveLawIndia) April 16, 2026ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سب سے صبر رکھنے کے لیے کہہ رہی تھی۔ آج سپریم کورٹ نے حکم جاری کر دیا ہے۔ اپیل فائل کرنے والوں کی درخواستوں پر ٹریبونل 21 تاریخ تک فیصلہ لے گا اور سپلیمنٹری ووٹر لسٹ 23 اپریل کو پہلے مرحلہ کی ووٹنگ سے قبل شائع کی جائے گی۔ 29 تاریخ کو دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کے لیے بھی یہی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ میں تمام متعلقہ فریق سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ووٹر لسٹ اسی رات تک بھیج دی جائے۔ میں خوش ہوں اور مجھے عدلیہ پر فخر ہے۔ فیصلہ میری عرضی پر مبنی ہے، مجھے سپریم کورٹ پر فخر ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے انتخاب کے دوران ایس آئی آر تنازعہ کے پیش نظر شہریوں کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کیا ہے۔ ووٹر لسٹ سے نام نکالے جانے کے خلاف اعتراضات سے متعلق 34 لاکھ سے زائد اپیلیں زیر التوا ہونے کی وجہ سے، سپریم کورٹ نے ایک واضح ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی اہل ووٹر اپنے جمہوری حق سے محروم نہ رہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مغربی بنگال میں 23 اپریل کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخاب کے لیے، جن افراد کی اپیل پر اپیلٹ ٹریبونل 21 اپریل تک فیصلہ سنا دے گا، وہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اسی طرح جن کی اپیل پر اپیلٹ ٹریبونل 27 اپریل تک فیصلہ کر دے گا، وہ 29 اپریل کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈال سکیں گے۔"Cooch Behar, West Bengal: Chief Minister Mamata Banerjee says, "I got the good news after boarding my helicopter in Dinhata, I was telling everyone repeatedly to be patient, to apply for adjudication in Tribunal, and today or tomorrow you will get it. Today Supreme Court has… pic.twitter.com/QHlCLXuGli— IANS (@ians_india) April 16, 2026سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ایسے لوگوں کے لیے سپلیمنٹری ووٹر لسٹ جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جہاں اپیلٹ ٹریبونل 21 اپریل تک لوگوں کی اپیلوں پر فیصلہ کرے گا، وہاں الیکشن کمیشن ان کے ناموں کی ایک سپلیمنٹری ووٹر لسٹ جاری کرے گا۔ اس ووٹر لسٹ میں جن کا بھی نام ہوگا، وہ تمام 23 اپریل کو پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اسی طرح 27 اپریل تک فیصلہ ہونے والے ناموں کی بھی ایک سپلیمنٹری ووٹر لسٹ جاری ہوگی، جو 29 اپریل کو دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔West Bengal SIR | The Supreme Court has directed the Election Commission of India (ECI) to ensure that wherever claims of excluded voters are allowed by the Appellate Tribunals before the polling dates between April 23 and 29, their names are incorporated in a supplementary…— ANI (@ANI) April 16, 2026حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ووٹر لسٹ سے باہر کیے جانے کے خلاف صرف اپیل کر دینے سے کوئی شخص ووٹ دینے کا حقدار نہیں بن جائے گا۔ بنچ نے فیصلے میں کہا کہا کہ ’’حالانکہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اپیلٹ ٹریبونل کے سامنے فہرست سے نکالے گئے لوگوں کی اپیل محض زیر التوا ہونے سے انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں ملے گا۔‘‘ یعنی ٹربیونل میں صرف اپیل دائر کر دینے سے یہ حکم نافذ نہیں ہوگا۔ اپیل پر ٹریبونل سے کلین چٹ ملنے پر ہی اپیل کنندہ ووٹ ڈالنے کا اہل ہوگا۔سپریم کورٹ کے مطابق اگر کسی اپیل کو ٹریبونل سے کلین چٹ ملتی ہے، تو متعلقہ ووٹر کو اہل مانتے ہوئے مغربی بنگال میں یہ حکم موثر ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ ووٹ ڈالنا نہ صرف ایک آئینی حق ہے بلکہ یہ ایک جذباتی حق بھی ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے انتخابی عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔