امریکا ایران جنگ بندی کی غیریقینی صورتحال کے سبب خام تیل مہنگا اور دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار ہیں جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر گزشتہ روز عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیریقینی صورتحال دیکھنے میں آئی۔رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 5 فیصد اضافے کے ساتھ 95.16 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.6 فیصد اور یورپی فیوچرز میں 1.1 فیصد کمی دیکھی گئی۔اس کے برعکس ایشیائی اسٹاک مارکیٹس سیول، تائپی اور ٹوکیو کی مارکیٹوں کے شیئرز میں اضافہ ہوا، جبکہ تائیوان کی مارکیٹ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا، تاہم ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے روز 20 سے زائد بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرے تھے جو یکم مارچ کے بعد سب سے تعداد تھی۔رپورٹ کے مطابق امریکا ایران جنگ بندی جسے منگل تک جاری رہنا تھا، اس وقت مشکوک ہوگئی جب امریکا نے ایک ایرانی کارگو جہاز قبضے میں لے لیا، جس کے بعد تہران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کشیدہ ضرور ہے تاہم فریقین کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث اسٹاک مارکیٹس میں مکمل مندی نہیں آئی۔دوسری جانب نیشنل آسٹریلیا بینک نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث قرضوں میں اضافے کا خدشہ ہے اور بینک نے 50 کروڑ ڈالر کے ممکنہ نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔علاوہ ازیں گزشتہ روز بڑھنے والے بانڈز پیر کو نچلی سطح پر آگئے جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی شرح سود 4.266 فیصد تک بڑھ گئی، امریکی ڈالر بھی گزشتہ دو ہفتوں کی کمزوری کے بعد سنبھل گیا۔اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے وال اسٹریٹ انڈیکسز ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے تھے، جس کی وجہ مضبوط سہ ماہی مالی نتائج کی توقعات تھیں۔خلیجی ملک کا تیل سے متعلق بڑا اعلان