بہار میں ریونیو ملازمین کی معطلی منسوخ، نومنتخب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے وجے سنہا کا فیصلہ پلٹا

Wait 5 sec.

بہار کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سابق نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا کے ایک بڑے فیصلے کو پلٹ دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے طویل عرصہ سے ہڑتال پر ڈٹے ریونیو ملازمین کو بڑی راحت دی ہے۔ محکمہ ریونیو اینڈ لینڈ ریفارمز نے معطل ریونیو ملازمین کو راحت دینے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ 14 اپریل تک محکمہ ریونیو اور لینڈ ریفارمز کی ذمہ داری سنبھال رہے سابق نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے ہڑتال پر گئے ریونیو ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی تھی۔وجے سنہا نے 224 ریونیو ملازمین کو معطل کر دیا تھا۔ یہ ملازمین اپنے مختلف مطالبات کو لے کر 11 فروری سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر تھے۔ اس کے بعد 9 مارچ سے سی او اور ریونیو افسران بھی ہڑتال پر چلے گئے۔ ان میں سے بھی 45 افسران کو معطلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے تمام ملازمین کی معطلی واپس لے لی ہے اور انہیں جلد از جلد بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ 11 فروری سے 19 اپریل کے درمیان معطل کیے گئے تمام ملازمین کی بحالی جلد از جلد شروع کی جائے۔قابل ذکر ہے کہ بہار میں فی الحال مردم شماری چل رہی ہے۔ ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے اس اہم کام میں رکاوٹ آ رہی تھی۔ گزشتہ ڈھائی مہینوں سے ہڑتال کی وجہ سے زونل دفاتر میں زمین سے متعلق کاغذی کام مکمل طور سے رکے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے لوگ پریشان تھے۔ حکومت چاہتی ہے ک انتظامی کام بغیر کسی رکاوٹ کے دوبارہ شروع ہوں، اس لیے ان ملازمین کو راحت دی گئی ہے۔دوسری جانب سمراٹ چودھری کی قیادت والی بہار حکومت نے محکمہ شہری ترقی کے اس متنازعہ حکم کو بھی واپس لے لیا ہے، جس میں سروس کے دوران مسابقتی امتحانات میں شامل ہونے پر سخت پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس حکم کے تحت ملازمین کو سروس کے دوران صرف ایک بار مسابقتی امتحانات دینے کی اجازت تھی۔ حکومت کے اس فیصلے کو ملازمین کے کیریئر پر روک کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، جسے اب ختم کر دیا گیا ہے۔ محکمہ شہری ترقی کے اس متنازعہ حکم کو واپس لینے کے فیصلے سے ملازمین میں طویل عرصے سے جاری عدم اطمینان ختم ہونے کی امید ہے۔گزشتہ حکم میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اگر کوئی ملازم اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے ملازمت چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔ اس التزام نے ملازمین کے درمیان خوف اور ڈر کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی سطح پر مختلف محکموں کے فیصلوں کا جائزہ لیا گیا۔ اسی دوران اس حکم پر بھی توجہ گئی۔ وزیر اعلیٰ انے اسے ملازمین کے مفادات کے خلاف مانتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ اس کے بعد محکمہ شہری ترقی نے اپنے پرانے حکم کو واپس لے لیا۔