منی پور گزشتہ 3 برسوں سے مسلسل تشدد کی زد میں ہے، جہاں حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ اس طویل عرصہ کے دوران نہ صرف سینکڑوں لوگوں کی جانیں گئی ہیں بلکہ ہزاروں گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ مستقل خواتین پر مظالم کے واقعات سامنے آئے ہیں اور عام لوگوں کی زندگی مکمل طور پر درہم برہم ہو چکی ہے۔منی پور بحران: کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ، لاپرواہی اور آئینی خلاف ورزیوں کے الزاماتکانگریس کے مطابق منی پور اس وقت ایک سنگین انسانی بحران سے گزر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت نے گزشتہ 3 برسوں میں امن و امان کی بحالی کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ پارٹی نے کہا کہ حکومت صرف تماشائی بنی رہی اور ریاست کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اب منی پور کے لوگ خود سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور حکومت سے جواب طلب کر رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، جہاں لوگ امن و انصاف اور حکومتی توجہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم کانگریس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم انتخابی ریلیوں میں مصروف ہیں اور منی پور کے عوام کی آواز سننے کو تیار نہیں۔मणिपुर बीते 3 साल से हिंसा की चपेट में है।⦁ लोगों की मौत हो रही है ⦁ हजारों घर बर्बाद हो चुके हैं⦁ महिलाओं पर अत्याचार हो रहा है⦁ आम जनजीवन तहस-नहस हो चुका हैलेकिन... इस तीन साल में नरेंद्र मोदी और उनकी सरकार ने मणिपुर में शांति के लिए कुछ नहीं किया- सिर्फ तमाशा… pic.twitter.com/woucAL8LQv— Congress (@INCIndia) April 21, 2026کانگریس نے اپنے بیان کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں منی پور کے مختلف حصوں میں خراب حالات، جلے ہوئے مکانات، متاثرہ خاندانوں اور سڑکوں پر احتجاج کرتے لوگوں کو دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں عوامی غصہ اور بے بسی صاف جھلکتی ہے۔ اس ویڈیو کو سامنے رکھتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ منی پور کو اس وقت محبت، ہم آہنگی اور فوری امن کی ضرورت ہے، لیکن حکومت کی مبینہ بے حسی اور نظر انداز کرنا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر جلد ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ اپنے بیان کے آخر میں کانگریس نے دعویٰ کیا کہ منی پور کے لوگ طویل عرصہ سے نظر انداز کیے جانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو کبھی معاف نہیں کریں گے اور آنے والے وقت میں اس کا سیاسی اثر بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔