حکمراں طبقے پر اقتدار کا نشہ کس قدر حاوی ہے، اس کی ایک چھوٹی سی مثال مدھیہ پردیش میں دیکھنے کو ملی۔ یہاں برسر اقتدار بی جے پی کے لیڈر اعلیٰ پولیس افسران پر اپنا رعب جھاڑتے نظر آئے۔ خبروں کے مطابق مدھیہ پردیش کے شیو پوری ضلع میں ایک سڑک حادثے نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ ریاست کے پچھور سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی پریتم سنگھ لودھی کے بیان پر بڑا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے سرعام کریرا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اور سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او پی) کے خلاف سخت اور جارحانہ زبان استعمال کی، جس پر اب ماحول کافی گرم ہو گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ایم ایل اے کے بیٹے دنیش لودھی نے جمعہ کو تیز رفتار میں تھار گاڑی چلاتے ہوئے موٹر سائیکل سوار 3 نوجوانوں کو ٹکر مار دی تھی۔ اس حادثے میں سبھی لوگ زخمی ہو گئے، حالانکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واردات کے سبب علاقے میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا اور لوگ کافی غصہ میں نظر آئے۔ حادثے کے بعد ایم ایل اے پریتم لودھی پولیس کی کارروائی پر آگ بگولہ ہو گئے۔ انہوں نے سیدھے طور پر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اور سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او پی) سے سوال کیا کہ آخر وہ کس کے حکم پر کارروائی کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہاں تک پوچھ لیا کہ کیا انہیں وزیر اعظم، وزیر داخلہ یا کسی دوسرے بڑے لیڈر کا حکم ملا ہے؟مدھیہ پردیش: پولیس حراست میں 45 سالہ شخص کی موت سے ہلچل، 2 پولیس اہلکار معطلاس سلسلے میں ممبر اسمبلی نے پولس افسران کو 15 دن کا وقت دیا اور کہا کہ وہ اس مدت میں جواب دیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر انہیں کوئی جواب نہیں ملا تو وہ ذاتی طور پر کریرا پہنچیں گے اور زبردست احتجاج کریں گے۔ انتہائی متنازعہ بیان دیتے ہوئے ایم ایل اے نے کہا کہ وہ 10 ہزار لوگوں کو لے کر ایس ڈی او پی کے گھر پہنچیں گے اور ان کے بنگلے کو گوبر سے بھروا دیں گے۔ یہی نہیں، انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا گھونسا پہلے سے ڈھائی کلو کا تھا، اب 250 کلو کا ہو گیا ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہے کہ وہ اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کر رہے تھے۔مدھیہ پردیش: دلت دولہے کو مندر میں جانے سے روکا گیا، پولیس بھی نظر آئی بے بسایم ایل اے کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور لوگ اس پر مختلف ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ اسے طاقت کا گھمنڈ قرار دے رہے ہیں، جب کہ کچھ اسے امن و امان کے لیے چیلنج بتا رہے ہیں۔ اب یہ پورا معاملہ سیاسی رُخ اختیار کر چکا ہے۔ اپوزیشن اس معاملے پر حکومت کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اور حکومت اس معاملے پر کیا قدم اٹھاتے ہیں۔