واشنگٹن(20 اپریل 2026): امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے قبضے میں لیے جانے والے ایرانی جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی۔سینٹ کام نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں امریکی میرینز کو بحیرہ عمان میں ایران کے جھنڈے والے ایک مال بردار جہاز پر قبضہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ امریکا نے چھ گھنٹے تک جہاز کے عملے کو دی جانے والی ‘مسلسل وارننگز’ کا ویڈیو ثبوت بھی شیئر کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ عملے نے حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔یاد رہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد یہ کسی جہاز پر قبضے کا پہلا واقعہ ہے، جس نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ دوسری جانب ایران نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی افواج نے ‘ایم وی طوسکا’ نامی جہاز کو اس وقت روکا جب وہ شمالی بحیرہ عرب سے ایران کی بندرگاہ بندر عباس کی جانب گامزن تھا۔امریکی محکمہ جنگ کے مطابق گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر ‘یو ایس ایس اسپروئنس’ نے جہاز کے انجن روم پر 5 انچ کی ایم کے 45 گن سے گولہ باری کر کے اس کے انجن کو ناکارہ بنایا۔ اس کے بعد 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے امریکی میرینز جہاز پر سوار ہوئے اور اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔U.S. Marines depart amphibious assault ship USS Tripoli (LHA 7) by helicopter and transit over the Arabian Sea to board and seize M/V Touska. The Marines rappelled onto the Iranian-flagged vessel, April 19, after guided-missile destroyer USS Spruance (DDG 111) disabled Touska’s… pic.twitter.com/mFxI5RzYCS— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 20, 2026امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر آپریشن کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا امریکی میرینز ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحری جہاز یو ایس ایس تریپولی سے روانہ ہوئے اور بحیرہ عرب کے اوپر سے گزرتے ہوئے ایم وی طوسکا پر پہنچے۔میرینز نے 20 اپریل کو اس ایرانی جہاز پر رسیوں کے ذریعے اتر کر قبضہ کیا، جب تجارتی جہاز نے امریکی افواج کی جانب سے چھ گھنٹے تک دی جانے والی وارننگز کو نظر انداز کر دیا تھا۔امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ناکہ بندی کے دوران طوسکا کے عملے نے بار بار کی تنبیہات کو نظر انداز کیا جس کے بعد کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔ امریکی محکمہ جنگ کے بیان کے مطابق طوسکا کو مطلع کیا گیا تھا کہ وہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ جب عملہ نہ مانا تو اسپروئنس نے جہاز کو انجن روم خالی کرنے کی ہدایت کی اور پھر فائرنگ کر کے اس کی نقل و حرکت روک دی۔U.S. forces operating in the Arabian Sea enforced naval blockade measures against an Iranian-flagged cargo vessel attempting to sail toward an Iranian port, April 19.Guided-missile destroyer USS Spruance (DDG 111) intercepted M/V Touska as it transited the north Arabian Sea at… https://t.co/iyzOQd93C3 pic.twitter.com/HwU4XS48Oq— DOW Rapid Response (@DOWResponse) April 19, 2026دوسری جانب تہران نے اس واقعے کو ‘بحری قزاقی’ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز نے ایک بیان میں کہا جارح امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری قزاقی کرتے ہوئے بحیرہ عمان میں ایران کے ایک تجارتی جہاز پر حملہ کیا اور اس کے جہاز رانی کے نظام کو تباہ کر دیا۔ ہم خبردار کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جلد ہی اس مسلح قزاقی کا جواب دیں گی اور اس کا بدلہ لیا جائے گا۔