اسمبلی انتخابات 2026 کے سلسلے میں ووٹنگ کی تیاریوں کے آخری مرحلے میں تمل ناڈو کا سیاسی درجہ حرارت اپنے شباب پر پہنچ چکا ہے۔ ریاست میں کانگریس اور حکمراں ڈی ایم کے اتحاد کی انتخابی مہم میں عوام کی زبردست شرکت سے پارٹی رہنماؤں اور کارکنان میں زبردست جوش دیکھا جارہا ہے۔ اس جوش وخروش میں مزید شدت پیدا کرنے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے آج ریاست کا دورہ کیا اور انتخابی جلسے کو خطاب کر کے ملک کی ترقی اور قوم کے اتحاد کے لیے کانگریس زیر قیادت اتحاد کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی پارٹی کی انتخابی مہم کے تحت کنیا کماری کے نن گنیری میں منعقد ایک بڑے جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو نشانہ بنایا۔ کانگریس کے سابق صدر نے اپوزیشن اے آئی اے ڈی ایم کے پر الزام عائد کیا کہ وہ بی جے پی کے سامنے خودسپردگی کر چکی ہے اور اسے ملک کے عوام اچھی طرح دیکھ رہے ہیں۔ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ کون ملک کی ترقی کے لیے الیکشن لڑ رہا ہے اور کون صرف دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔LIVE: LoP Shri @RahulGandhi addresses the public in Nanguneri, Tamil Nadu. https://t.co/2SMK7OLYRk— Congress (@INCIndia) April 20, 2026راہل گاندھی نے پیر کے روز بی جے پی اور اس کی اتحادی اے آئی اے ڈی ایم کے کو نشانہ بنا کر ریاست کے سیاسی جغرافیہ کو چیلنج کیا جس سے صوبائی سیاست میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اس جلسہ عام میں بڑی تعداد میں کانگریس رہنماؤں کے ساتھ عوامی سیلاب نظر آرہا تھا۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ اے آئی اے ڈی ایم کے لیڈروں نے بدعنوانی کی وجہ سے بی جے پی کے سامنے خود سپردگی کردی ہے۔ ریاست میں بی جے پی اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لیے اے آئی اے ڈی ایم کے کا استعمال کررہی ہے۔کھڑگے اور راہل گاندھی کا مرکز پر شدید حملہ، منریگا کی روح کو تباہ کرنے کا الزاماس دوران اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے آرایس ایس پر بھی جم کر نشانہ لگایا۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ آرایس ایس دراوڑ نظریات کو پسند نہیں کرتا ہے اور تمل ناڈو پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق تمل ناڈو کی شناخت، زبان اور ثقافت کی حفاظت کے لیے اس طرح کی ذہنیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی براہ راست طور پر تمل ناڈو میں اپنی بنیاد قائم کرنے اور مضبوط ہونے کے لیے زمین تلاش کر رہی ہے۔ اس لیے وہ اے آئی اے ڈی ایم کے کا سہارا چاہتی ہے، تاکہ ریاست کی سیاست میں داخل ہو سکے۔