واشنگٹن : وال اسٹریٹ جرنل نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا پردہ چاک کر دیا اور کہا پالیسیوں میں جارحیت اور خوف ایک ساتھ چل رہے ہیں۔امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے ایک سنسنی خیز رپورٹ جاری کی ، جس میں بتایا گیا صدر ٹرمپ کا عوامی جاہ و جلال اور ایران کے خلاف سخت بیانیہ محض ایک ‘دکھاوا’ اور نفسیاتی حربہ ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں جارحیت اور خوف ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ جہاں وہ دنیا کے سامنے ایران کے خلاف سخت زبان اور دھماکا خیز بیانات استعمال کرتے ہیں، وہیں بند کمروں میں وہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ کے چھڑ جانے سے شدید خوفزدہ ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات دراصل ایک سوچی سمجھی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھا کر اسے رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کسی بھی ایسی زمینی فوجی کارروائی سے بچنا چاہتے ہیں جس سے امریکی فوج کا جانی نقصان ہو یا امریکی معیشت پر بھاری مالی بوجھ پڑے۔ایران کی جانب سے امریکی طیارہ گرائے جانے کے واقعے پر ٹرمپ شدید غصے میں آ گئے تھے اور کئی گھنٹوں تک اپنے ہی مشیروں پر برستے رہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ صدر ٹرمپ کا اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ ‘ڈیل’ ہے، اور وہ اپنے سخت لہجے کو صرف ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ نے ٹرمپ کے "پبلک امیج” اور ان کی اصل "بند کمرہ پالیسیوں” کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کر دیا ہے