برطانیہ: لی اینڈرسن اور زارہ سلطانہ کو پارلیمنٹ سے کیوں نکال دیا گیا؟

Wait 5 sec.

لندن: دو برطانوی اراکین پارلیمنٹ لی اینڈرسن اور زارہ سلطانہ کو پارلیمنٹ ہاؤس سے اس وقت نکال دیا گیا جب انہوں نے وزیراعظم کیئرا سٹارمر پر دروغ گوئی کا الزام عائد کیا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ”ریفارم یوکے“کے لی اینڈرسن اور ”یور پارٹی“کی زارہ سلطانہ کو پارلیمنٹ سے اس وقت نکالا گیا جب انہوں نے امریکہ میں سابق برطانوی سفیر لارڈ پیٹر مینڈیلسن کی تقرری سے متعلق ایک بیان کے دوران وزیراعظم اسٹارمر پر دروغ گوئی کا الزام لگایا۔واضح رہے کہ، مینڈیلسن کو ان کے عہدے سے اس وقت ہٹا دیا گیا جب امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین دستاویزات میں ان پر بدنام اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کا الزام لگایا گیا۔بعد ازاں پیر کے اجلاس کے دوران اینڈرسن نے کہا، ”وزیراعظم کو جس مسئلے کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ان پر یقین نہیں کرتا۔ عوام ان پر یقین نہیں کرتے۔ ایوان کے اس طرف موجود ارکان ان پر یقین نہیں کرتے۔ ان کے اپنے بھولے ہوئے پچھلی نشستوں کے ارکان بھی ان پر یقین نہیں کرتے۔ تو کیا وزیراعظم مجھ سے متفق ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں؟“اسپیکر لنڈسے ہوئل نے فوری طور پر مداخلت کی اور ان سے اپنے الفاظ واپس لینے کو کہا، تاہم ریفارم کن پارلیمان نے انکار کرتے ہوئے کہا،”میں یہ الفاظ واپس نہیں لوں گا۔“انہیں ایوان سے جانے کہا گیا۔بعد ازاں اجلاس میں کن پارلیمان زارہ سلطانہ نے وزیراعظم کو ”واضح جھوٹا“ قرار دیا اور ان پر قوم کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ جس کے بعد اسپیکر نے انہیں جانے کو کہا لیکن انہوں نے رہنے پر اصرار کیا۔بعد میں، ارکان نے جنرل کچن کی طرف سے پیش کردہ تحریک کے حق میں ووٹ دیا جس کے تحت سلطانہ کو ایوان کی خدمات سے معطل کر دیا گیا۔بنگلہ دیش نے ہزاروں روہنگیا پناہ گزینوں کو پاسپورٹ جاری کردیئےمعطلی نے ان کے حوصلے پست نہیں کیے، بلکہ انہوں نے وزیراعظم ا سٹارمر پر اپنا موقف دہراتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ایکس پر ایک پوسٹ میں سلطانہ نے لکھا، ”کیئر اسٹارمر ایک واضح جھوٹا ہے اور اگر اس میں کوئی شرافت ہے تو وہ استعفیٰ دے دے گا۔“