واشنگٹن (22 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ایلیٹ کافمین نے احمقانہ تجزیہ کیا ہے.امریکی صدر ٹرمپ ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا ’’وال اسٹریٹ جرنل اپنا راستہ کھو چکا ہے، اب اسے پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی، جیسا وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے ایران بھی ایسا نہیں سوچتا۔‘‘ٹرمپ نے لکھا ’’وال اسٹریٹ جرنل کے ادارتی بورڈ کا ایک احمق، جس کا نام ایلیٹ کافمین ہے، نے ابھی ایک تجزیہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے: ’ایرانی ٹرمپ کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔‘ واقعی؟ 47 سال سے وہ ہمارے لوگوں کو اور بہت سوں کو قتل کرتے آئے ہیں، اور ہر صدر سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، سوائے میرے — اور میں نے انھیں کیا دیا؟ ایک تباہ حال ملک!‘‘امریکی صدر نے لکھا ’’ان کی پوری بحریہ سمندر کی تہہ میں پڑی ہوئی ہے، ان کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، ان کا فضائی دفاع اور ریڈار نظام تباہ ہو چکا ہے، ان کی نیوکلیئر لیبارٹریاں اور ذخیرہ گاہیں ایک تاریک جون کی رات ہمارے عظیم B-2 بمبار طیاروں کے ذریعے نیست و نابود کر دی گئیں۔‘‘وال اسٹریٹ جرنل کے ایڈیٹوریل رائٹر اور ممبر ایڈیٹوریل بورڈ ایلیٹ کافمینڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’ان کے رہنما مارے جا چکے ہیں، جن میں جنرل سلیمانی بھی شامل ہیں، وہ خطرناک ذہن جس نے سڑک کنارے بموں کے ذریعے بہت سی زندگیاں تباہ کیں۔‘‘ٹرمپ نے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی درخواست پر ایران پر حملے مؤخر کردیےان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ناکہ بند ہے اور مکمل طور پر امریکا کے کنٹرول میں ہے، اور کسی بھی جہاز کو ایرانی بندرگاہوں تک جانے کی اجازت نہیں، کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ان کا ملک ایک معاشی تباہی کا شکار ہے، اور محض ایک دھاگے سے لٹکا ہوا ہے۔ٹرمپ نے مزید لکھا ’’براک حسین اوباما نے انھیں 1.7 ارب ڈالر نقد رقم (’’گرین‘‘ کیش) کی صورت میں دی، جو ایک بوئنگ 757 کے ذریعے ان کے رہنماؤں تک پہنچائی گئی، اور سینکڑوں ارب ڈالر دیے تاکہ وہ جوہری بم بنانے کے راستے پر آگے بڑھ سکیں۔ دوسرے صدور نے انھیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا، جو صدارت کے منصب پر ایک داغ ہے!‘‘ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا ’’لیکن ان سب کے باوجود، وال اسٹریٹ جرنل کے ادارتی بورڈ میں ایک بے وقوف میرے بارے میں لکھ رہا ہے کہ مجھے ’بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔‘ ایران یقینی طور پر ایسا نہیں سوچتا، اور نہ ہی کوئی اور۔‘‘ انھوں نے لکھا میرا خیال ہے کہ روپرٹ مرڈوک نے اسے اسی طرح لکھنے کو کہا ہوگا، کیوں کہ وال اسٹریٹ جرنل اپنی راہ کھو چکا ہے، اب اسے پڑھنا ضروری نہیں رہا، بلکہ یہ ایک اور ناکام سیاسی ’’اخبار‘‘ بن چکا ہے۔‘‘