آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی تو ایران سے ڈیل نہیں ہو پائے گی، ٹرمپ

Wait 5 sec.

واشنگٹن (22 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی تو ایران سے ڈیل نہیں ہو پائے گی، ایران نہیں چاہتا کہ آبنائے ہرمز بند ہو، وہ اسے کھولنا چاہتے ہیں۔ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ’’ایران نہیں چاہتا کہ آبنائے ہرمز بند ہو بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ کھلی رہے تاکہ وہ روزانہ 500 ملین ڈالر کما سکیں۔‘‘انھوں نے لکھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے یومیہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ وہ اسے بند کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ میں نے اسے مکمل طور پر ناکہ بند کر رکھا ہے، اس لیے وہ محض اپنی ’’عزت بچانے‘‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 4 دن پہلے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور کہا ’’سر، ایران فوری طور پر آبنائے کو کھولنا چاہتا ہے، لیکن اگر ہم ناکہ بندی ختم کریں گے تو ایران کے ساتھ کبھی کوئی ڈیل نہیں ہو سکے گی۔‘‘ٹرمپ نے ایک بار پھر ملک اور لیڈروں کو اڑانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ’’ایسا کیا تو ڈیل نہیں ہو سکے گی جب تک کہ ہم ان کے ملک بشمول لیڈروں کو اڑا نہ دیں۔‘‘ٹرمپ نے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی درخواست پر ایران پر حملے مؤخر کردیےواضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے، ٹرتھ سوشل پر بیان میں کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر حملے دوبارہ مؤخر کر دیے، مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی میں توسیع کر رہا ہوں، ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر ابھی حملہ نہ کریں۔انھوں نے کہا میں نے امریکی فوج کو حملے کی بجائے ناکہ بندی جاری رکھنے کی ہدایات کی ہے، ایران پر حملے روکے تاکہ ایران کے قائدین کوئی تجویز دیں، جنگ بندی کو اس وقت تک توسیع دیتے رہیں گے جب تک ایران کی تجاویز پیش نہیں کی جاتیں، جنگ بندی تب تک رہے گی جب تک بات چیت کسی نہ کسی طریقے سے مکمل ہو جاتی ہے۔