واشنگٹن (22 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اُن افغان شہریوں کو، جنھوں نے امریکی افواج کی مدد کی تھی، افریقہ کے ملک کانگو منتقل کرنے کے لیے غور کیا جا رہا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر میں موجود تقریباً 1100 افغان شہری، جن میں امریکی فوج کے مترجمین، افغان اسپیشل فورسز کے سابق اہلکار اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں، اس منصوبے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ان میں 400 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ یہ افراد گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے ’’کیمپ السیلیہ‘‘ میں رہائش پذیر ہیں۔ان افغان شہریوں کو 2001 میں شروع ہونے والی افغان جنگ کے دوران طالبان کے خلاف امریکا کا ساتھ دینے کے باعث اپنی جانوں کے خطرے کے پیش نظر قطر منتقل کیا گیا تھا، اور انھیں امریکا میں مستقل رہائش کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم نئی امیگریشن پالیسیوں کے بعد یہ عمل رک گیا ہے۔امریکی امدادی تنظیم ’’افغان ایواک‘‘ کے سربراہ شان وین ڈائور کے مطابق افغان شہریوں کو دو آپشن دیے جا رہے ہیں: یا تو وہ طالبان کے زیر اقتدار افغانستان واپس جائیں یا پھر کانگو منتقل ہو جائیں۔افریقی ممالک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کریں، چینی صدراقوام متحدہ کے مطابق کانگو میں اس وقت شدید انسانی بحران جاری ہے، جہاں اس وقت 6 لاکھ سے زائد مہاجرین موجود ہیں، جن میں زیادہ تر سینٹرل افریقن ریپبلک اور روانڈا سے تعلق رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کانگو مزید مہاجرین کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، خاص طور پر روانڈا کے ساتھ کشیدگی اور پناہ گزین کیمپوں پر حملوں کے باعث حالات مزید خراب ہو چکے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ان افغان شہریوں کو امید تھی کہ وہ چند ہفتوں میں امریکا منتقل ہو جائیں گے، مگر اب وہ غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگٹ نے کہا کہ حکومت باقی ماندہ افغان شہریوں کے لیے ’’ذمہ دارانہ اور رضاکارانہ آبادکاری‘‘ کے آپشنز تلاش کر رہی ہے۔واضح رہے کہ 2021 سے 2025 کے درمیان تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار افغان شہری امریکا میں آباد ہو چکے ہیں، تاہم اب بھی ایک بڑی تعداد غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ معاملہ امریکا کی اخلاقی ذمہ داری اور سخت امیگریشن پالیسیوں کے درمیان جاری کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔امریکا سے افغان سمیت دیگر مہاجرین کو لینے پر کانگو میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ریفیوجیز سے متعلق ایجنسی سے صدر ٹرمپ نے 50 ملین ڈالرز کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔