اترپردیش میں الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) عمل کے دوران 27 دسمبر تک 2.88 کروڑ فارم جمع نہیں ہو پائے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار میں یہ معلومات سامنے آئی ہیں۔ افسران نے بتایا کہ اس کی بنیادی وجوہات نقل مکانی یا منتقلی، ووٹر کی موت اور دوہری اندراج ہیں۔افسران کے مطابق ووٹروں کی مستقل نقل مکانی سب سے بڑی وجہ تھی، جس کے 1,29,77,472 معاملے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بڑے پیمانے پر بین ضلعی اور بین ریاستی نقل مکانی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر شہری اور نیم شہری علاقوں سے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن ووٹروں کے بارے میں پتہ نہیں چل پایا ہے دوسری سب سے بڑی کیٹیگری ہیں، ان کی تعداد 79,52,190 تھی اور اس کی اہم وجوہات عارضی نقل مکانی، رہائش کی بار بار تبدیلی اور ایڈریس کے غلط ریکارڈ تھے۔افسران نے بتایا کہ رجسٹرڈ ووٹروں کی موت کی وجہ سے 46,23,796 فارم جمع نہیں ہو پائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر 25,47,207 ووٹرس پہلے ہی کہیں اور رجسٹرڈ پائے گئے، جو اعداد و شمار میں دوہرے اندراج کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ 7,74,472 فارم دیگر وجوہات کے تحت آئے جن میں غلط یا ادھوری جانکاری شامل ہیں۔واضح رہے کہ ضلع وار تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ گوتم بدھ نگر، غازی آباد، لکھنؤ، کانپور نگر، آگرہ اور وارنسی جیسے شہری اضلاع میں مستقل طور پر منتقلی اور دیگر مقامات پر پہلے سے رجسٹریشن کی وجہ سے جمع نہ ہو پانے والے فارم کی تعداد زیادہ تھی۔ افسران نے بتایا کہ بہرائچ، شراوستی، بلرام پور، سدھارتھ نگر اور مہاراج گنج سمیت سرحدی اور نقل مکانی کے لحاظ سے حساس اضلاع میں ان ووٹروں کا تناسب نسبتاً زیادہ تھا، جنہیں پتہ نہ چل پانے والا یا غیر حاضر زمرے میں رکھا گیا تھا۔اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نو دیپ رَنوا نے 30 دسمبر کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ ریاست میں جاری ایس آئی آر کی اعلان کردہ تاریخوں میں ترمیم کرتے ہوئے نئی تاریخیں جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ترمیم شدہ تاریخوں کے مطابق اب ووٹر لسٹ کی ڈرافٹ پبلیکیشن 6 جنوری کو کی جائے گی، جبکہ دعوے اور اعتراضات موصول کرنے کی مدت 6 جنوری سے 6 فروری تک مقرر کی گئی ہے۔ رِنوا نے بتایا کہ 6 جنوری سے 27 فروری تک نوٹس کا مرحلہ، فارم پر فیصلہ اور دعووں و اعتراضات کو نمٹایا جائے گا۔ اتر پردیش کی ووٹر لسٹ کی حتمی اشاعت 6 مارچ کو کی جائے گی۔