نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا نے گگ ورکرس کے حق میں مضبوط آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں صرف اعداد و شمار یا استعمال کے بعد نظرانداز کیے جانے والے ڈیٹا پوائنٹس کے طور پر نہیں بلکہ انسانوں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلیوری رائیڈرز اور دیگر گگ ورکرس کی محنت ہی وہ بنیاد ہے جس پر آج کی گگ اکانومی کھڑی ہے، اس کے باوجود انہیں بنیادی حقوق اور تحفظ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔راگھو چڈھا نے ملک بھر کے ان گگ ورکرس سے یکجہتی ظاہر کی جنہوں نے نئے سال کی پیشگی رات کو ملک گیر علامتی ہڑتال کی تھی۔ یہ ہڑتال بہتر اجرت، بہتر کام کے حالات اور سماجی تحفظ کے مطالبے کے لیے کی گئی تھی۔ اس احتجاج میں کئی ریاستوں میں ہزاروں ڈیلیوری پارٹنرز نے اپنے ایپس بند رکھے یا کام نمایاں طور پر کم کر دیا، جس کے نتیجے میں کئی شہروں میں آرڈرز میں تاخیر اور منسوخی کی اطلاعات سامنے آئیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ وہ جوماٹو، سوگی اور بلنکٹ جیسے پلیٹ فارمز سے وابستہ ڈیلیوری رائیڈرز کے ساتھ بیٹھے اور ان کی بات سنی۔ ان کے مطابق یہ کوئی شکایت نامہ نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ گفتگو تھی جن کی محنت روزمرہ زندگی کو آسان بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے فوری ترسیل کی کمپنیوں کو اس مقام تک پہنچایا، آج اپنی بات منوانے کے لیے سڑک پر آنے پر مجبور ہیں۔راگھو چڈھا کا کہنا تھا کہ گگ پلیٹ فارمز کی کامیابی صرف الگورتھم کی وجہ سے نہیں بلکہ ان انسانوں کے پسینے اور محنت کا نتیجہ ہے جو دن رات کام کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گگ اکانومی کو بے حسی اور استحصال کی معیشت نہیں بننے دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق کم اور غیر یقینی اجرت، طویل اوقاتِ کار، سماجی تحفظ کی کمی اور عزت و احترام کا فقدان سنگین مسائل ہیں جن پر فوری توجہ ضروری ہے۔انہوں نے الٹرا فاسٹ ڈیلیوری ماڈل پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ دس منٹ میں ڈیلیوری کا دباؤ کارکنوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ راگھو چڈھا نے زور دے کر کہا کہ گگ ورکرس روبوٹ یا بندھوا مزدور نہیں بلکہ خاندانوں کے ذمہ دار انسان ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ کمپنیوں اور پالیسی سازوں کی جانب سے انہیں وہ مقام اور تحفظ دیا جائے جس کے وہ حق دار ہیں۔