عوام خوش نہیں تو ذمہ دار ہم ہیں امریکا نہیں، ایرانی صدر

Wait 5 sec.

ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر صدر مسعود پزشکیان نے اعتراف کیا ہے کہ عوام خوش نہیں تو ذمہ دار ہم ہیں امریکا نہیں۔عوامی مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ وسائل کا انتظام اور لوگوں کے مسائل حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے عوامی مسائل ہماری ناکامیوں اور ناقص انتظامیہ کا نتیجہ ہیں، حکومت کو عوام کے خدشات دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ملک میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں تیزی سے گراوٹ کے خلاف مختلف شہروں میں 5 روز سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان مظاہروں میں شدت آچکی ہے۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ کئی شہروں میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر بھی دھاوا بولا جبکہ ہنگامہ آرائی میں ملوث 30 افراد کو سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق عالمی معاشی پابندیوں کے باعث ایران شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے اور اس کی کرنسی کی قدر اتنی گر چکی ہے کہ 14 لاکھ ریال صرف ایک امریکی ڈالر کے مساوی ہو گئے ہیں۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی کی کرنسی کم ترین سطح پر آنے کا مطلب ایرانی ریال کی قدر تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ریال میں یہ نمایاں کمی پابندیوں اور علاقائی کشیدگیوں کے درمیان ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ایران میں مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔