آسٹن : الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی معروف امریکی کمپنی ٹیسلا اس سال بھی اعزاز سے محروم رہی، چینی کمپنی نے ریکارڈ فروخت کرکے اسے پیچھے چھوڑ دیا۔ٹیسلا کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سال2025 میں اس کی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے کا اعزاز اس سال چینی کمپنی بی وائی ڈی کے پاس چلا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹیسلا کی فروخت میں کمی کی بڑی وجوہات میں بڑھتا ہوا عالمی مقابلہ امریکا میں ٹیکس کریڈٹ کی سہولت کا خاتمہ اور برانڈ کے حوالے سے منفی ردِعمل شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں گزشتہ سال 28 فیصد اضافہ ہوا، تاہم بی وائی ڈی نے پہلی بار سالانہ بنیادوں پر ٹیسلا کو فروخت میں پیچھے چھوڑ دیا۔ٹیسلا گاڑیوں کی فروخت 2025 میں تقریباً 8.6 فیصد کم ہوئی، خاص طور پر یورپ میں سخت مقابلے کے باعث کمپنی کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔اس صورتحال نے ٹیسلا کے بنیادی آٹو موبائل کاروبار کی بحالی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک اپنی توجہ روبوٹ ٹیکسیز اور ہیومینائیڈ روبوٹس کی جانب منتقل کر رہے ہیں۔ ان خبروں کے بعد ٹیسلا کے شیئرز میں کاروبار کے دوران تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی۔اے ایف پی کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے سال 2025 کے آخری 3 ماہ میں 4 لاکھ 18 ہزار 227 گاڑیاں ڈیلیور کیں، جس سے پورے سال کی مجموعی فروخت قریباً 16 لاکھ 40 ہزار الیکٹرک گاڑیوں تک پہنچ گئی۔ یہ تعداد سال 2024 کے مقابلے میں 8فیصد سے زائد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔اس سے ایک دن قبل بی وائی ڈی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گزشتہ سال 22 لاکھ 60 ہزار الیکٹرک گاڑیاں فروخت کی تھیں۔۔یاد رہے کہ ٹیسلا کی چوتھی سہ ماہی کے اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے جب تیسری سہ ماہی میں گاڑیوں کی ترسیل میں اس لیے اضافہ دیکھنے میں آیا تھا کہ خریدار 7 ہزار 5سو ڈالر کے وفاقی ٹیکس کریڈٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے جلدی خریداری کر رہے تھے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ستمبر میں اس سہولت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔