ماسکو (یکم جنوری 2026): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سال 2026 کا جو پہلا حکم نامہ جاری کیا ہے اس کے مستقبل میں اثرات سامنے آئیں گے۔دنیا بھر میں سال 2026 کا آغاز ہو چکا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان 2022 میں شروع ہونے والی جنگ اب تک جاری ہے۔ ان کشیدہ حالات کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نئے سال کے آغاز پر جو پہلا حکم نامہ جاری کیا ہے، اس کے اثرات مستقبل میں سامنے آئیں گے۔العربیہ کے مطابق چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ویلری گیراسیموف کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے علاقوں سومیا اور خارکیف میں، جو روسی سرحد کے قریب واقع ہیں اور ماسکو اس کو بفر زون قرار دیتا ہے۔ روسی صدر نے اس بفرزون کو وسیع کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ توسیع سال 2026 کے دوران کی جائے گی، جب کہ اس وقت روسی افواج شمال مشرقی یوکرین میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔چیف آف اسٹاف نے "نارتھ” فوجی گروپ کے دستوں کا معائنہ کیا۔ یہ فورس، جو 2024 کے اوائل میں تشکیل دی گئی تھی، شمال مشرقی یوکرین میں سرحد پر بفر زون قائم کرنے اور مزید پیش قدمی کے حصول کے لیے وہاں موجود یوکرینی افواج کو پیچھے دھکیلنے پر کام کر رہی ہے۔روس کی جانب سے یہ اقدامات صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ حملے کی کوششوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے سومی اور خارکیف سے متعلق ماسکو کے منصوبے کو "جنون” پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو اس اقدام پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یوکرین ان دونوں علاقوں کا دفاع کر رہا ہے۔چاہتے ہیں جنگ کا خاتمہ ہو یوکرین کا نہیں، یوکرینی صدر