نئی دہلی: کانگریس نے یورپی یونین کے ساتھ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) کو حتمی شکل دیتے وقت کاربن ٹیکس سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا ہے کہ یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم ہندوستانی برآمدات کے لیے ایک ناقابلِ قبول غیر محصولاتاتی رکاوٹ بن چکا ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اطلاعات کے مطابق ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ غور آزاد تجارتی معاہدہ اسی ماہ کے آخر میں حتمی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم یکم جنوری 2026 سے ہی یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کو ہندوستانی اسٹیل اور ایلومینیم برآمد کرنے والے اداروں کو کاربن ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔جے رام رمیش کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران یورپی یونین کو ہندوستانی اسٹیل اور ایلومینیم کی برآمدات اوسطاً 5.8 ارب ڈالر رہیں، جو اس سے قبل تقریباً سات ارب ڈالر تھیں۔ ان کے مطابق یہ کمی اس وقت شروع ہو گئی تھی جب یورپی یونین کے درآمد کنندگان نے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم کے نفاذ کی تیاری شروع کی۔کانگریس رہنما نے بتایا کہ تھنک ٹینک جی ٹی آر آئی کے اندازے کے مطابق کئی ہندوستانی برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 15 سے 22 فیصد تک کمی کرنا پڑ سکتی ہے، تاکہ یورپی یونین کے درآمد کنندگان اس فرق کو کاربن ٹیکس کی ادائیگی کے لیے استعمال کر سکیں۔The much-awaited India-EU Free Trade Agreement will reportedly be finalised later this month. Meanwhile, beginning today Jan 1, 2026 itself, Indian steel and aluminum exporters to the 27-nation European Union will have to pay a carbon tax under the EU’s Carbon Border Adjustment…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) January 1, 2026رمیش نے یہ بھی کہا کہ کاربن ٹیکس کے ساتھ منسلک سخت دستاویزی تقاضے، جن میں کاربن اخراج کے تفصیلی حساب اور رپورٹنگ شامل ہے، ہندوستانی برآمد کنندگان پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔جے رام رمیش نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان جو بھی آزاد تجارتی معاہدہ طے پائے، اس میں اس کاربن ٹیکس جیسے غیر محصولاتاتی اور ناقابلِ قبول تجارتی رکاوٹ کا واضح اور مؤثر حل ضرور شامل ہونا چاہیے، تاکہ ہندوستانی صنعت اور برآمدات کو غیر منصفانہ نقصان سے بچایا جا سکے۔