سال 2026 میں صارفین کے لیے کمپیوٹر، اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمی سطح پر 2026 میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے اور اس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے RAM کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔عالمی مارکیٹ انٹیلی جنس فرم ( آئی ڈی سی) کی دسمبر 2025 کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ RAM (Random Access Memory) جو کمپیوٹر اور اسمارٹ فونز میں ڈیٹا ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اب AI ڈیٹا سینٹرز کی ضروریات کے لیے زیادہ استعمال ہو رہی ہے، جس سے سپلائی اور ڈیمانڈ میں توازن بگڑ گیا ہے اور صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔انٹیلی جنس فرم کا کہنا تھا کہ 2026 میں DRAM (Dynamic RAM) کی سپلائی میں صرف 16 فیصد سالانہ اضافہ ہوگا، جو تاریخی اوسط سے کم ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ AI ڈیٹا سینٹرز کی کارکردگی بڑھانے کے لیے زیادہ RAM کی ضرورت ہے، اور اس بڑھتی مانگ کے سبب اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں جیسے Apple، Samsung اور Google قیمتیں بڑھا سکتی ہیں تاکہ اپنی لاگت کو پورا کیا جا سکے۔CyberPowerPC کے جنرل مینیجر اسٹیو میسم کا بھی کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں RAM کی قیمتیں تقریباً 500 فیصد بڑھ چکی ہیں اور یہ صورتحال مینوفیکچررز کو مجبور کرے گی کہ وہ بڑھتی لاگت کو صارفین پر منتقل کریں۔ایک تجزیہ کے مطابق سال 2026 میں عالمی اسمارٹ فون شپمنٹس میں 2.1 فیصد کمی متوقع ہے اور RAM کی قیمتیں سال کے دوسرے نصف میں تقریباً 40 فیصد بڑھ سکتی ہیں۔ماہرین نے کہا ہے کہ 16GB RAM والے لیپ ٹاپ کی پیداوار پر 40 سے 50 ڈالر اضافی لاگت پڑ سکتی ہے، جبکہ ایک اسمارٹ فون کی پیداوار پر تقریباً 30 ڈالر کا اضافہ ہوگا، جو ممکنہ طور پر صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔Counterpoint کے اعداد و شمار میں بتایا گیا 2026 میں اسمارٹ فونز کی اوسط فروخت قیمت میں تقریباً 6.9 فیصد اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث iPhone 17 Max کے ماڈل کی قیمت $1,281 تک پہنچ سکتی ہے، جو 2025 کی قیمت $1,199 سے زیادہ ہے۔تاہم اس تبدیلی کا اثر خاص طور پر کم قیمت والے فونز پر زیادہ محسوس ہوگا، جبکہ بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ قیمت والے ماڈلز کی قیمت میں اضافہ نسبتاً کم محسوس ہوگا۔