اندور میں آلودہ پانی پینے سے اموات اور بڑی تعداد میں شہریوں کے بیمار پڑنے کے معاملے پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی اور حکمراں جماعت پر سخت تنقید کی ہے۔ ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن اور سوچھ بھارت ابھیان کا ڈھنڈورا پیٹنے والے وزیر اعظم نریندر مودی اندور میں آلودہ پانی سے ہوئی اموات پر ہمیشہ کی طرح خاموش ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ یہی اندور وہ شہر ہے جسے مرکزی حکومت کے ’سوچھ سرویکشن‘ میں مسلسل آٹھویں بار صاف ترین شہر کا خطاب ملا مگر یہ انتہائی شرمناک حقیقت ہے کہ یہاں بی جے پی کی نااہلی کے باعث لوگ صاف پانی کو ترس رہے ہیں۔ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 11 برسوں سے ملک کو لمبی چوڑی تقاریر، جھوٹے دعوے، کھوکھلے وعدے اور ڈبل انجن کی شیخیوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ جب وزرا سے اس سانحے پر سوال کیا جاتا ہے تو وہ بدزبانی پر اتر آتے ہیں اور اقتدار کے گھمنڈ میں صحافیوں کو ہی نشانہ بنانے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق بی جے پی حکومتوں کے بدانتظامی پر پوری سرکاری مشینری پردہ ڈالنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔کانگریس صدر نے جل جیون مشن سمیت مختلف سرکاری اسکیموں میں بدعنوانی اور دھاندلی کے الزامات دہراتے ہوئے کہا کہ یہ بات یاد دلانا ضروری ہے کہ جل جیون مشن کے تحت فنڈ کا ایک حصہ آلودہ پانی کی صفائی کے لیے مختص کیا جاتا ہے، مگر زمینی سطح پر اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ رہا۔ کھڑگے کے مطابق مودی حکومت اور بی جے پی نہ ملک کو صاف پانی فراہم کر سکی ہیں اور نہ ہی صاف ہوا، جس کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔اس سے قبل کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اندور میں پانی نہیں بلکہ زہر بانٹا گیا اور انتظامیہ گہری نیند میں رہی۔ راہل گاندھی کے مطابق متاثرہ علاقوں میں گھر گھر ماتم ہے، غریب خاندان بے بس ہیں، مگر حکمراں جماعت کے رہنماؤں کے بیانات میں غرور اور بے حسی نمایاں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ جب شہری بار بار گندے اور بدبودار پانی کی شکایت کر رہے تھے تو ان کی شنوائی کیوں نہیں ہوئی، سیوریج پینے کے پانی میں کیسے شامل ہوا اور وقت رہتے سپلائی بند کیوں نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق صاف پانی کوئی احسان نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی حق اور حقِ حیات کا حصہ ہے۔जल जीवन मिशन और स्वच्छ भारत अभियान का ढिंढोरा पीटने वाले @narendramodi जी, हमेशा की तरह इंदौर में दूषित पानी पीने से हुई मौतों को लेकर मौन हैं। यह वही इंदौर शहर है जिसने केंद्र सरकार के स्वच्छ सर्वेक्षण में लगातार आठवीं बार “Cleanest City” का ख़िताब जीता है। ये शर्मनाक बात है…— Mallikarjun Kharge (@kharge) January 2, 2026تازہ ترین پیش رفت کے مطابق قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس سانحے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاستی چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب کی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد اور مریضوں کے مکمل علاج کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے بھی حکومت سے اس معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اموات کی تعداد محدود بتائی جا رہی ہے، تاہم مقامی سطح پر اس سے زیادہ ہلاکتوں کے دعوے سامنے آ رہے ہیں، جس نے انتظامیہ کی ذمہ داری اور شفافیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔