واشنگٹن (03 جنوری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کر کے ملک سے باہر بھیج دیا گیا ہے۔امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کی قیادت کرنے والوں پر کامیابی کے ساتھ ایک بڑے پیمانے کا حملہ کیا، آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ مار اے لاگو میں اس سلسلے میں پریس کانفرنس بھی کریں گے۔ٹرتھ سوشل پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو آپریشن کے بعد گرفتار کر کے ملک سے باہر لے جایا گیا۔اس سے قبل امریکی حکام نے امریکی میڈیا کو تصدیق کی تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کی منظوری دی۔ امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے اندر مختلف مقامات، جن میں فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں، پر حملوں کا حکم دیا۔ یہ حملے خطے میں کئی مہینوں سے جاری امریکی فوجی تیاریوں کے بعد کیے گئے ہیں، جن کے تحت طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور متعدد دیگر جنگی بحری جہاز بحیرۂ کیریبین میں تعینات کیے گئے تھے۔وینزویلا کے صدر نے امریکی حملے کی تصدیق کر دی، ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلانوینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا تھا، انھوں نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا پر حملہ کر دیا ہے، ہم امریکا کی فوجی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں اور اس کی سخت مذمت کرتے ہیں، امریکی جارحیت بین الاقوامی امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ مادورو نے امریکی حملے کو ملکی وسائل پر قبضے کی ایک کوشش قرار دیا اور کہا کہ امریکا وینزویلا کے اسٹریٹیجک وسائل، تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، انھوں نے کہا کہ ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔