گاڑیوں میں استعمال ہونے والی سی این جی بھی محفوظ ایندھن نہیں ہے، ایشیائی شہر کی فضا میں نائٹروجن آکسائیڈ کی بھرمار ہوگئی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 دسمبر کی صبح دہلی این سی آر کے کئی علاقوں میں ہوا کا معیار اشاریہ 400 سے تجاوز کر گیا، یہ صورتِ حال صاف ظاہر کرتی ہے کہ متعلقہ حکام فضائی آلودگی کے اصل اسباب کو درست طور پر سمجھنے میں ناکام ہیں یا پھر وہ سخت فیصلے کرنے سے گریزاں ہیں۔دو دہائیاں قبل دہلی کو کالے دھوئیں سے نجات دلانے کے لیے سی این جی کو ایک حل کے طور پر پیش کیا گیا تھا، آج وہی ایندھن نائٹروجن آکسائیڈ کے ذریعے آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔پٹرول کے متبادل کے طور دہلی میں سی این جی گاڑیوں کو فروغ دیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہلی میں نائٹروجن آکسائیڈ کی مجموعی آلودگی کا تقریباً 81 فیصد حصہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر، یعنی گاڑیوں سے آتا ہے۔رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں دہلی کی فضا میں عجیب قسم کا زہر گھلا ہوا ہے، جس ایندھن کو محفوظ قرار دے کر اپنایا گیا تھا آج وہی لوگوں کے دم گھٹنے کا سبب بن رہا ہے۔مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی تازہ دستاویزات کے مطابق سات برس بعد دہلی میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ (این او ٹو) کی سطح میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مقرر کردہ 10 مائیکروگرام فی مکعب میٹر کی محفوظ حد کے مقابلے میں اس سال یہ مقدار 47 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ چکی ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے سال 2018 میں این او ٹو کی سالانہ اوسط 48 تھی، جو 2023 میں کم ہو کر 35 تک آئی مگر 2024 میں یہ دوبارہ 43 اور 2025 میں 47 تک جا پہنچی یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ خطرناک صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہوا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔سی پی سی بی کے مطابق این او ٹو میں اضافے کی بنیادی وجہ سی این جی گاڑیوں سے خارج ہونے والی کیمیائی گیسز ہیں، ایسی فضا میں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، سر کا بھاری پن اور پھیپھڑوں پر براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔دہلی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سارا زور پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 تک محدود رہا، اور اسی مقصد کے تحت سی این جی گاڑیوں کو فروغ دیا گیا تاہم اب نتیجہ الٹا سامنے آرہا ہے۔’بہائنڈ دی اسموک اسکرین‘ رپورٹ جو کہ جولائی 2021 میں شائع ہوئی اس میں پہلے ہی خبردار کیا جا چکا تھا کہ دہلی سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں نائٹروجن آکسائیڈ کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے۔فضائی آلودگی ، پاکستان کا بھارت کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھانے کا فیصلہ