امریکا کا ایران میں مظاہرین کے ساتھ موساد ایجنٹس کی موجودگی کا اعتراف

Wait 5 sec.

امریکا نے ایران میں مظاہرین کے ساتھ موساد ایجنٹس کی موجودگی کا اعتراف کرلیا ہے۔سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایرانی مظاہرین اور ان کے ساتھ چلنے والے موساد ایجنٹس کو نیا سال مبارک ہو۔انہوں نے لکھا کہ ایرانی حکومت مشکل میں ہے، فوجی مداخلت ان کی آخری امید ہے۔مائیک پومپیو نے کہا کہ ایران کے درجنوں شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں، نیم فوجی دستے ’بسیج‘ محاصرے میں ہیں، مشہد، تہران اور زاہدان کی باری ہے۔سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی حکومت کے 47 برس اور ٹرمپ امریکا کے 47ویں صدر، کیا یہ محض اتفاق ہے؟‘واضح رہے کہ ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشا کمی اور  بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہوگئے۔دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے ،  احتجاج کا یہ سلسلہ دکانداروں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت میں بے تحاشا کمی پر برہم تھے۔مختلف مقامات پر ایرانی فورس اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہل کار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔مظاہرین کے پتھراؤ کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، مظاہرے تہران اور فارس کے علاوہ مرو دشت اور لردگان میں بھی ہوئے ہیں، کئی صوبوں میں اسکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند کیے جاچکے ہیں ۔