پانی کے تحفظ کے ماہر اور راجندر سنگھ نے مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں آلودہ پینے کا پانی استعمال کرنے سے ہونے والی اموات کو نظام کی پیدا کردہ آفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے کی اصل جڑ بدعنوانی ہے۔ ان کے مطابق اگر ملک کے سب سے صاف شہر کہلانے والے اندور میں ایسا المیہ پیش آ سکتا ہے تو دیگر شہروں میں پینے کے پانی کی صورتِ حال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔رامن میگسیسے ایوارڈ یافتہ راجندر سنگھ نے کہا کہ ٹھیکے دار لاگت بچانے کے لیے اکثر پینے کے پانی کی پائپ لائنیں نالیوں اور سیوریج لائنوں کے قریب بچھا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں آلودگی پھیلتی ہے۔ ان کے بقول بدعنوانی نے پورے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے اور اندور کا یہ سانحہ اسی ناکام اور بدعنوان نظام کا نتیجہ ہے۔اندور اپنی پانی کی ضروریات کے لیے نرمدا ندی پر انحصار کرتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے ذریعے نرمدا کا پانی پڑوسی ضلع کھرگون کے جلود سے تقریباً 80 کلومیٹر دوری سے شہر تک لایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود شہر میں ہر دوسرے دن نل کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے، جو شہری آبی نظم و نسق پر سوال کھڑے کرتا ہے۔راجندر سنگھ نے زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 1992 میں پہلی بار اندور گئے تھے اور اس وقت بھی سوال اٹھایا تھا کہ شہر کب تک نرمدا کے پانی پر انحصار کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق تین دہائیوں بعد بھی یہی انحصار اس بات کی علامت ہے کہ سرکاری نظام پائیدار آبی نظم قائم کرنے میں سنجیدہ نہیں۔حکام کے مطابق اس منصوبے پر میونسپل کارپوریشن کو ہر ماہ تقریباً 25 کروڑ روپے صرف بجلی کے بل کی مد میں خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ شہر کے میئر پشیمتر بھارتی نے جون 2024 میں ایک پروگرام کے دوران طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ اندور ایسا شہر ہے جہاں لوگ 21 روپے فی کلو لیٹر لاگت والا پانی پیتے اور ضائع بھی کرتے ہیں۔انتظامیہ نے بتایا کہ بھاگیرتھ پورہ علاقے میں ایک پولیس چوکی کے قریب پینے کے پانی کی مرکزی پائپ لائن میں اس مقام پر رساؤ پایا گیا، جس کے اوپر ایک بیت الخلا بنا ہوا تھا۔ اسی وجہ سے پانی کے آلودہ ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سرکاری طور پر چھ اموات کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔