اندور کے بعد گاندھی نگر میں بھی آلودہ پانی، کئی لوگ بیمار، امت شاہ کی ضلع مجسٹریٹ سے بات

Wait 5 sec.

گجرات کے دارالحکومت گاندھی نگر میں ٹائیفائیڈ کے معاملوں کی ایک بڑی تعداد رپورٹ ہوئی ہے اور بچوں سمیت 104 مریضوں کو اس بیماری کے مشتبہ معاملوں کے ساتھ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واضح رہے اندور کے بعد گاندھی نگر میں بھی  آلودہ پانی کےمعاملے سامنے آئے بتائے جاتے ہیں۔ دریں اثنا، نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے ہفتہ یعنی کل گاندھی نگر سیول اسپتال میں صورتحال کا جائزہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ سیول اسپتال میں گزشتہ تین دنوں کے دوران ٹائیفائیڈ کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، 104 مریض بچوں کے وارڈ میں داخل ہیں۔ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے کہا کہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سمیت سینئر حکام کو اسپتال کی صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے اور داخل مریضوں کے اہل خانہ کے لیے کھانے اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریضوں کے علاج کے لیے 22 ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔اندور کے بعد امروہہ میں گاؤں تک پہنچا زہریلا پانی! گاؤں والے سنگین بیماریوں کی زد میںنائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ضلع مجسٹریٹ کے ساتھ فون پر تین بار صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا، "فی الحال 104 مشتبہ معاملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ انتظامیہ علاج اور نگرانی کے نظام کو مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔"عہدیداروں نے بتایا کہ گاندھی نگر میونسپل کارپوریشن کے محکمہ صحت نے متاثرہ علاقوں میں گھر گھر جاکر سروے شروع کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "لوگوں کو ابلا ہوا پانی پینے اور گھر کا پکا ہوا کھانا کھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن پانی کے ٹینکوں کو صاف کرنے کے لیے کلورین کی گولیاں بھی تقسیم کر رہی ہے۔"