کاراکاس (04 جنوری 2026): نوبل امن انعام یافتہ اور وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مادورو کو اب بین الاقوامی انصاف کا سامنا کرنا ہوگا، اور وینزویلا میں عوامی حکومت کا وقت آ گیا ہے۔وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے مطالبہ کیا ہے کہ ایڈمنڈو گونزالیز کو ملک کا جائز اور حق دار رہنما تسلیم کیا جائے۔ گونزالیز کو وینزویلا کے 2024 کے صدارتی انتخابات کا حقیقی فاتح وسیع پیمانے پر تصور کیا جاتا ہے۔ماریا کورینا نے اپوزیشن لیڈر ایڈمنڈو گونزالیز کی ملک کے نئے لیڈر کے طور پر حمایت کا اعلان کیا، اور کہا کہ اب وینزویلا میں امن ہوگا، سیاسی قیدی رہا کیے جائیں گے۔خیال رہے کہ ماچادو گزشتہ سال عالمی سطح پر اس وقت نمایاں ہوئیں جب انھوں نے دنیا کا باوقار نوبیل امن انعام حاصل کیا۔ حالاں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامی توقع کر رہے تھے کہ جنگیں رکوانے کے صلے میں انھیں یہ انعام ملے گا۔امریکی فوجی مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے لے گئے تھےوہ وینزویلا کی حکمران جماعت یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینزویلا (PSUV) کی ابتدا ہی سے سخت ناقد رہی ہیں، جو 1998 کے صدارتی انتخابات میں اپنے بانی ہوگو شاویز کی قیادت میں اقتدار میں آئی تھی۔ نوبیل کمیٹی نے ماچادو کو یہ اعزاز ’’آمریت سے جمہوریت کی جانب منصفانہ اور پُرامن انتقال کے لیے ان کی جدوجہد‘‘ کے اعتراف میں دیا۔مادورو کے آمرانہ نظام پر ان کی بے باک اور کھلی تنقید کے باعث ان کے حامی انھیں ’’آئرن لیڈی‘‘ کے لقب سے پکارتے ہیں۔ ماریا کورینا کا کہنا ہے کہ انتخابات میں حقیقی کامیابی گونزالیز نے حاصل کی تھی، انھیں فوری طور پر اپنی آئینی ذمے داری سنبھالنی چاہیے۔ تاہم سپریم کورٹ نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو قائم مقام کی حیثیت سے صدارتی دفتر کے تمام فرائض اور اختیارات سنبھالنے کا حکم دیا ہے۔تاہم، امن کا نوبل انعام جیتنے والی ماچادو نے ایک ایسے حالات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کی ہے، جب ان کی انتظامیہ کیریبین سمندر میں وینزویلا کی ان کشتیوں کے خلاف مہلک حملے کر رہی ہے جن پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کے نام معنون کیا اور مادورو کے خلاف امریکا کی دباؤ کی مہم کی بارہا حمایت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے بگڑتے ہوئے سیاسی اور معاشی نظام نے ملک کی 20 فیصد آبادی کو ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ماریا کورینا ماچادو نے ہفتے کی رات امریکا کی ایک کارروائی میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کے عوام کے نام ایک خط بھی جاری کیا۔ گزشتہ ایک سال سے زیادہ تر روپوش رہنے والی ماچادو نے کہا کہ مادورو وینزویلا کے عوام اور کئی دیگر ممالک کے شہریوں کے خلاف کیے گئے بھیانک جرائم پر بین الاقوامی انصاف کا سامنا کریں گے، آزادی کا وقت آ چکا ہے۔سی بی ایس نیوز کے مطابق ہفتے کے روز یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ماچادو، جو گزشتہ ماہ ایک خفیہ مشن کے تحت ناروے فرار ہو گئی تھیں، اس وقت وینزویلا میں موجود ہیں یا نہیں۔ انھوں نے دسمبر کے وسط میں سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مادورو حکومت پر بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کی ’’مکمل طور پر‘‘ حمایت کرتی ہیں اور مزید دباؤ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’تاکہ مادورو یہ سمجھ جائے کہ اسے جانا ہی ہوگا۔‘‘