آبنائے تائیوان میں کسی بھی اشتعال انگیزی کا سخت ردِعمل دیا جائے گا، چین

Wait 5 sec.

ماسکو: روس میں چین کے سفیر ژانگ ہانہوئی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے تائیوان میں کسی بھی بدنیتی پر مبنی اشتعال انگیزی کا چین بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک انٹرویو میں چینی سفیر کا کہنا تھا کہ تائیوان سے متعلق معاملے میں جو بھی اقدامات“ریڈ لائن”عبور کریں گے، وہ لازمی طور پر چین کے سخت ردِعمل کو جنم دیں گے۔اُنہوں نے کہا کہ چین اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ژانگ ہانہوئی کا کہنا تھا کہ غیر ملکی پابندیوں کے خلاف چین کے قومی قانون کے تحت بیجنگ نے حال ہی میں 20 امریکی فوجی صنعتی اداروں اور ان کی اعلیٰ انتظامیہ کے 10 نمائندوں کے خلاف جوابی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، جو حالیہ برسوں میں تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے میں ملوث رہے ہیں۔چینی سفیر کا کہنا تھا کہ 29 دسمبر 2025 سے عوامی جمہوریہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے مشرقی تھیٹر کمانڈ نے“جسٹس مشن 2025”کے نام سے فوجی مشقوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام اقدامات تائیوان کی علیحدگی کے حامی عناصر اور بیرونی مداخلت کرنے والی قوتوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں ریاستی خودمختاری کے دفاع اور قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے جائز اور ناگزیر ہیں۔حالیہ پاک بھارت تنازع پر ثالثی کی تھی، چین کی پہلی بار تصدیقچینی سفیر نے واضح کیا کہ چین آبنائے تائیوان کے معاملے میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔