اندور میں آلودہ پانی سے 15 لوگوں کی موت کے بعد اب اترپردیش کے امروہہ سے بھی ایک بے حد سنگین اور ڈرانے والی تصویر سامنے آ رہے ہے۔ یہاں فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا اور کیمیکل سے بھرا پانی گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ ٹیوب ویل ہوں یا گھروں کے نل پانی نہیں زہر نکل رہا ہے۔ اس زہریلے پانی کی وجہ سے گاؤں والے سنگین بیماریوں کی زد میں ہیں، کھیتوں کی زرخیزی قوت ختم ہو رہی ہے اور فصلیں برباد ہو رہی ہیں۔ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق فیکٹریوں سے نکلنے والے اس زہریلے پانی کی وجہ سے گاؤں والے سنگین بیماریوں کی زد میں آ رہے ہیں، جبکہ زراعت بھی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی زیر زمین پھیل چکا ہے، جس کی وجہ سے کھیتوں کی زرخیزی قوتیں ختم ہو رہی ہیں اور فصلیں برباد ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود ضلع انتظامیہ اور ذمہ دار محکموں کی جانب سے اب تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انتخاب کے وقت غریبوں اور کسانوں کی بات کرنے والے عوامی نمائندے اس سنگین آلودگی کے مسئلہ پر مکمل طور سے خاموش ہیں۔گاؤں والوں کا الزام ہے کہ جو کسان حقیقت میں اپنی آواز اٹھا رہے ہیں، وہی اس لڑائی کو لڑ رہے ہیں، جبکہ کئی بڑے کسان لیڈر انتظامیہ کے ساتھ میٹنگوں اور چائے-پانی تک ہی محدود نظر آ رہے ہیں۔ اس لاپرواہی اور نظر اندازی کے خلاف ’کسان سنیکت مورچہ‘ (ایس کے ایم) نے شہبازپور ڈور میں آبی آلودگی کے خلاف غیر معینہ ہڑتال شروع کر دی ہے۔بھارتیہ کسان یونین (سنیکت مورچہ) سے منسلک کسانوں نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے، تب تک تحریک جاری رہے گی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جب پانی زہر بن چکا ہو اور لوگوں کو سانس لینے تک میں پریشانی ہو رہی ہو تو نئے سال یا کسی بھی طرح کے جشن کا کوئی مطلب نہیں ہے۔