ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین 20 جنوری کے بعد جیند سے سونی پت کے لیے پہلی بار روانہ ہوگی۔ ٹرین اور ہائیڈروجن پلانٹ کی ٹیسٹنگ کے لیے لکھنؤ سے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (آر ڈی ایس او) کی 2 ٹیمیں بھی جیند پہنچ چکی ہیں۔ یہ ٹیمیں پلانٹ کی مشینوں کی ٹیسٹنگ کر رہی ہیں، اس کے بعد ٹرین کے آلات اور دیگر سامان کی ٹیسٹنگ کے بعد ہری جھنڈی دے گی۔ یہ ٹرین مکمل طور سے ہندوستان میں ڈیزائن اور تیار کی گئی ہے۔واضح رہے کہ براڈ گیج لائن پر چلنے والی یہ دنیاکی سب سے لمبی (10 کوچ) اور سب سے طاقتور (2400 کلو واٹ) ہائیڈروجن ٹرین ہے۔ یہ ایک بار میں 2500 مسافروں کو لے جا سکتی ہے۔ 360 کلو ہائیڈروجن سے 180 کلومیٹر کا سفر طے کر سکتی ہے۔ یعنی ایک کلومیٹر کی دوری طے کرنے میں 2 کلو ہائیڈروجن خرچ ہوگی۔ دوسری جانب ڈیزل گاڑی 4.5 لیٹر میں ایک کلومیٹر چلتی ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ 1200 ہارس پاور والی یہ ٹرین ہائیڈروجن فیول سیل تکنیک پر مبنی ہے، اس کی تیاری پر 82 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ٹرین کے ڈبے چنئی میں واقع انٹیگرل کوچ فیکٹری میں تیار کیے گئے ہیں۔ اس کی ٹیسٹنگ بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی گئی ہے۔ جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا، کناڈا، فرانس اور سویڈن کے بعد ہندوستان ہائیڈروجن ٹرین والا آٹھواں ملک بن گیا ہے۔ ٹرین کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ مسافروں کو سہولت، تحفظ اور بہتر سفر کا نیا تجربہ مل سکے۔ ٹرین سیٹ میں 2 ڈرائیونگ پاور کار (ڈی پی سی) شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی صلاحیت 1200 کلو واٹ اور مجموعی طور پر 2400 کلو واٹ طاقت کے ساتھ 8 مسافر ڈبے لگائے گئے ہیں۔ٹرین کے کوچ میٹرو کے طرز پر کھلیں گے اور بند ہوں گے، مکمل طور سے دروازے بند ہونے کے بعد ہی ٹرین اسٹیشن چھوڑے گی۔ یہ ٹرین بغیر آواز کے چلے گی، مسافر آرام دہ سفر کا تجربہ کریں گے۔ سفر کے دوران پنکھے، لائٹ اور اے سی کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ ہر کوچ میں ڈسپلے ہوگا، آنے والے اسٹیشن کے بارے میں پہلے ہی اطلاع مل جائے گی۔یہ ٹرین صفر کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی ہے اور اس سے خارج ہونے والی واحد چیز پانی کی بھاپ ہے۔ ٹرین چلنے کے دوران صرف پانی اور بھاپ خارج کرے گی۔ انجن میں ڈیزل کی جگہ فیول سیل، ہائیڈروجن اور آکسیجن ڈالی جائے گی۔ آکسیجن کی مدد سے ہائیڈروجن کنٹرولڈ طریقے سے جلے گی اور اس سے پیدا ہونے والی بجلی لیتھیم آئن بیٹری کو چارج کرے گی۔ اس دوران دھوئیں کی جگہ صرف بھاپ نکلے گی۔ ٹرین سے نہ صرف آلودگی کم ہوگی بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔قابل ذکر ہے کہ ہائیڈروجن ٹرین چلانے کے لیے گزشتہ سال مئی-جون میں جیند کے 3 اور دہلی کے 2 لوکو پائلٹ کو چنئی میں ٹریننگ دی گئی تھی۔ اس کے بعد ستمبر-اکتوبر میں جیند کے 2 لوکو پائلٹ کو جالندھر بلایا گیا تھا اور وہاں ایک ماہ ٹریننگ دی گئی تھی۔ اس دوران انہیں ہائیڈروجن ٹرین کی تکنیک اور چلانے سے متعلق باریکیوں کے بارے میں بتایا گیا تھا۔