وینزویلا پر امریکی حملہ، اہم اپ ڈیٹس یہاں پڑھیں

Wait 5 sec.

کاراکاس (03 جنوری 2026): روس کی جانب سے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی گئی ہے، روسی وزارتِ خارجہ نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ مزید تصادم سے حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا کوئی جواز نہیں بنتا، نظریاتی دشمنی نے عملی بات چیت کو نقصان پہنچا دیا ہے۔ ادھر ایران، کیوبا اور کولمبیا نے بھی وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کی ہے، ایرانی وزارت خارجہ نے کہا امریکی حملے وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔ملک میں فوجی دستوں کی تعیناتیوینزویلا کے وزیر دفاع نے ملک بھر میں فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا اعلان کیا ہے، وزیر دفاع نے کہا وینزویلا کو اپنی تاریخ کی اب تک کی بدترین جارحیت کا سامنا ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر مزاحمت کی ضرورت ہے، انھوں نے ہم پر حملہ کیا ہے لیکن وہ ہمیں زیر نہیں کر سکیں گے۔سلامتی کونسل میں ہنگامی اجلاس کے لیے درخواستوینزویلا نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کر دی ہے، وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر اجلاس بلانے کی درخواست کی، جس میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری قوم فتح یاب ہوگی، امریکی جارحیت کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔امریکی نائب وزیر خارجہ کا بیانامریکی نائب وزیر خارجہ سینیٹر مائیک لی نے ایک بیان میں کہا کہ مادورو کو اب اپنے جرائم کا حساب دینا ہوگا، ان کو امریکا میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا، وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بتایا کہ وینزویلا میں مزید کارروائی کی توقع نہیں ہے۔صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کر کے ملک سے باہر بھیج دیا گیا، ٹرمپنائب وزیر خارجہ کے بیان سے ایسا لگ رہا ہے جیسے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوجی اہلکار امریکا لے گئے ہیں، کیوں کہ وینزویلا کی حکومت کا کہنا ہے کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کا سراغ نہیں مل رہا ہے، نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کے مطابق دونوں کی کوئی اطلاع نہیں۔وینزویلین نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر صدر مادورو اور اہلیہ زندہ ہیں تو ثبوت فراہم کیے جائیں، اور معلومات فراہم کی گئیں۔مادورو اور اہلیہ کی گرفتاری سے متعلق ٹرمپ کا بیانامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ وینزویلا کے صدر مادورو اور اہلیہ کو امریکی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے، اور ان کو ملک سے باہر لے جایا گیا ہے، امریکی صدر نے وینزویلا میں حملوں کو بڑے پیمانے کی کارروائی بھی قرار دیا، امریکی حملوں کے بعد وینزویلا کی حکومت نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا، حکومت کا کہنا تھا کہ امریکی حملے میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی شہریوں کے ایڈوائزریامریکی سفارت خانے نے شہریوں کو وینزویلا کا سفر کرنے سے روک دیا، سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو وینزویلا فوری چھوڑنے کی ہدایت بھی کی، امریکی سفارتخانے کی جانب سے وینزویلا پر لیول 4 ’’ڈوناٹ ٹریول‘‘ کا انتباہ جاری کیا ہے۔وینزویلا میں امریکی حملوں کے مقامات کی فہرستکولمبیا کے صدر پیٹرو نے وینزویلا میں امریکی حملوں کے مقامات کی فہرست جاری کی، جس کے مطابق کاراکاس کے لاکارلوتا ایئر بیس کو بمباری کے بعد غیر فعال کر دیا گیا، کیٹیا میں کوارٹیل ڈی لا مونٹانیا کو بمباری کے بعد نقصان پہنچا، کاراکاس میں وفاقی قانون ساز اسمبلی کی عمارت پر بمباری کی گئی، فورٹے ٹیونا، وینزویلا کا مرکزی فوجی کمپلیکس بمباری کا شکار بنا۔کولمبین صدر پیٹرو کے مطابق ایل ہیٹیلو کے ایک ہوائی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا، بار کیسیمیٹو میں ایف 16 بیس نمبر 3 کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا، کاراکاس کے قریب چار لاوی میں نجی ہوائی اڈے کو بھی غیر فعال کیا گیا، ہیگویروٹ میں فوجی ہیلی کاپٹر بیس کو بمباری کے بعد غیر فعال کیا گیا۔