بہار: مدھوبنی میں بنگلہ دیشی قرار دے کر مزدور پر ہجومی تشدد، ریاستی اقلیتی کمیشن کی فوری کارروائی کی ہدایت

Wait 5 sec.

پٹنہ: بہار کے ضلع مدھوبنی میں ایک اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے مزدور کے ساتھ پیش آئے ہجومی تشدد کے واقعے پر ریاستی اقلیتی کمیشن نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو فوری اور مؤثر کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ کمیشن نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اس سنگین واقعے میں ملوث تمام افراد کو بلا تاخیر گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت قدم اٹھائے جائیں۔کمیشن کے خط میں کہا گیا ہے کہ مدھوبنی ضلع کے راج نگر تھانہ علاقے کے ٹیچکا گاؤں میں ایک مسلم مزدور کو مبینہ طور پر بنگلہ دیشی قرار دے کر ہجوم کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو نہایت سنگین اور قابل مذمت جرم ہے۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایسے جرائم معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور قانون کی حکمرانی پر سوال کھڑے کرتے ہیں، اس لیے ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی ضروری ہے۔ریاستی اقلیتی کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ ہجومی تشدد کے اس معاملے میں شامل تمام افراد کے خلاف مناسب دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی بہار حکومت کے جاری کردہ پرپتر کے مطابق متاثرہ خاندان کو مالی امداد فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ انہیں علاج اور دیگر ضروریات میں مدد مل سکے۔واقعے کی تفصیلات کے مطابق کچھ شدت پسند عناصر نے مزدور نورشید عالم کو بنگلہ دیشی قرار دیتے ہوئے بے رحمی سے مارا پیٹا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ متاثرہ کی شکایت پر راج نگر تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم حملہ آور تاحال فرار بتائے جا رہے ہیں۔ اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نورشید عالم خون میں لت پت زمین پر پڑا ہے اور ہجوم میں شامل ایک نوجوان بار بار اس کے چہرے پر گھونسے مار رہا ہے، جبکہ لوگ بنگلہ دیشی کہہ کر نعرے لگا رہے ہیں۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد مدھوبنی پولیس نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 30 دسمبر 2025 کو چکدہ گاؤں میں پیش آنے والی اس مارپیٹ کی ویڈیو ان کے علم میں آئی ہے۔ ابتدائی جانچ میں واضح ہوا ہے کہ متاثرہ شخص بنگلہ دیشی نہیں بلکہ ضلع سپول کا رہائشی ہے اور فری کا کام کرتا ہے۔ پولیس سپرنڈنٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سب ڈویژنل پولیس افسر کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے، جو ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔