امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ پر کیوبن صدر نے جواب دیتے ہوئے کہا کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا کو دی گئی نئی وارننگ پر کیوبن صدر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیوبا ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور کوئی بھی ہمیں یہ حکم نہیں دے سکتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔کیوبن صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کا رویہ مجرمانہ ہے اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔کیوبن صدر کا کہنا تھا کہ کیوبا گزشتہ 66 برس سے امریکی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیوبا دھمکیاں دینے پر یقین نہیں رکھتا، تاہم اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کی قیادت کو نئی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ امریکا سے معاہدہ کر لیا جائے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ کیوبا طویل عرصے تک وینزویلا سے بھاری مقدار میں تیل اور مالی امداد حاصل کرتا رہا اور اس کے بدلے وینزویلا کے دو سابق حکمرانوں کو سیکیورٹی خدمات فراہم کی گئیں۔امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ اب یہ صورتحال ختم ہو چکی ہے اور وینزویلا کو ان عناصر سے کسی قسم کے تحفظ کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے ساتھ ان کی حفاظت کرے گا، کیوبا کے لیے اب کوئی پیسہ یا تیل نہیں جائے گا۔دونوں ممالک کے بیانات کے بعد امریکا اور کیوبا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جس پر عالمی مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔