واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کردیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ و سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک پیغام میں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کیخلاف سخت ایکشن لے لیا۔ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ اس اضافی ٹیرف کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ حتمی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ بار بار ایران میں مداخلت کی دھمکیاں دے چکے ہیں اور خبردار کرچکے ہیں کہ ان کے پاس انتہائی سخت آپشنز موجود ہیں۔ان آپشنز میں ایران کیخلاف فوجی کارروائی بھی شامل ہے، امریکی انتظامیہ کے مطابق وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہے۔دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت امریکا کی جانب سے بھیجی گئی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ رابطے بدستور قائم ہیں۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے یہ انتباہ کہ اگر احتجاج خونریز ہوا تو فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے، دراصل “دہشت گرد عناصر” کو اکسانے کے مترادف ہے۔ان کے بقول ایسے بیانات نے نہ صرف مظاہرین بلکہ سکیورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنانے کی فضا بنائی تاکہ ایران میں غیر ملکی مداخلت کا جواز پیدا کیا جاسکے۔یاد رہےکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور امریکی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں اب تک 490 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔