میکسیکو سٹی (08 جنوری 2026): میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے کہا ہے کہ وینزویلا کی صورت حال کے درمیان بھی انھوں نے کیوبا کو تیل کی ترسیل میں اضافہ نہیں کیا ہے۔روئٹرز کے مطابق میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے بدھ کے روز کہا کہ وینزویلا میں رونما ہونے والے تازہ حالات کے دوران بھی میکسیکو کیوبا کو تاریخی سطح سے زیادہ تیل نہیں بھیج رہا۔شینبام نے یہ بات اپنی روزانہ کی صبح کی پریس کانفرنس میں اس سوال کے جواب میں کہی کہ آیا وینزویلا کی تازہ صورتِ حال کے بعد میکسیکو جزیرے (کیوبا) کو تیل فراہم کرنے والا اہم ملک بن گیا ہے۔ خاص طور پر اس امریکی پابندی کے بعد جو وسط دسمبر سے وینزویلا سے تیل کی برآمدات پر عائد کی گئی ہے اور اسی دوران امریکی فوج نے صدر نکولس مادورو کو گرفتار بھی کیا ہے۔امریکی حملے میں کتنے افراد مارے گئے؟ وینزویلا کے وزیر داخلہ نے حیرت انگیز اصل تعداد بتا دیشینبام نے واضح کیا ’’ہم کیوبا کو اتنا ہی تیل بھیج رہے ہیں جتنا کہ پہلے بھیجتے رہے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ وینزویلا کی موجودہ صورت حال کے باعث میکسیکو اب ایک اہم تیل فراہم کنندہ بن چکا ہے، پہلے یہ مقام وینزویلا کا تھا۔‘‘میکسیکو کی صدر نے مزید کہا کہ سالوں سے میکسیکو مختلف وجوہ کی بنا پر کیوبا کو تیل فراہم کرتا رہا ہے، کبھی معاہدوں کی بنیاد پر، اور کبھی انسانی امداد کے طور پر بھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اب میکسیکو کیوبا کو زیادہ مقدار میں تیل فراہم کرے گا، تو انھوں نے جواب دیا ’’یہ وہی حصہ ہے جو معاہدے کا ہے اور انسانی امداد کا بھی، جیسا کہ پہلے بھی فراہم کیا جاتا رہا ہے۔‘‘