جھارکھنڈ کے رام گڑھ ضلع سے ایک انتہائی وحشیانہ اور شرمناک واردات سامنے آئی ہے۔ یہاں چوری کے شبہ میں ایک 7 سال کے معصوم بچے کو درخت سے باندھ کربے رحمی سے پیٹا گیا۔ یہ واردات اس وقت سامنے آئی جب اس کا 20 سیکنڈ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں اور مارا پیٹا جا رہا ہے۔یہ واردات 9 جنوری کو پتراتو تھانہ علاقہ کے تحت ڈیزل کالونی میں پیش آئی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور معاملے کی تحقیقات شروع کردی۔ تفتیش کے بعد کلیدی ملزم ببلو پرساد عرف ٹیکادھاری کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔جھارکھنڈ میں ہریانہ جیسی واردات! چیکنگ کے دوران خاتون پولیس افسر کو گاڑی نے روند ڈالا، موقع پر ہی موتپتراتو پولس اسٹیشن کے انچارج شیو لال گپتا نے بتایا کہ وائرل ویڈیو کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا، جس سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری عمل میں آئی۔ پولیس کے مطابق متاثرہ کے بڑے بھائی کی شکایت پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) اور پوکسو ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔شکایت میں بتایا گیا ہے کہ ببلو پرساد نے کالونی کے دو دیگر رہائشیوں کے ساتھ مل کر بچے کو روکا اور اس پر پیسے چوری کرنے کا الزام لگایا۔ اس کے بعد بچے کو درخت سے باندھ کر بری طرح پیٹا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں ملوث دیگر ملزمین کی شناخت کی جا رہی ہے اور انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس معاملے نے ایک بار پھر معاشرے میں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔