فلوریڈا (11 جنوری 2026): نارویجن نوبل انسٹیٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ نوبل امن انعام کسی دوسرے کو منتقل، تقسیم یا واپس نہیں لیا جا سکتا۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نوبل کمیٹی کا مذکورہ بیان وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا مچاڈو کے اس تبصرے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنا 2025 کا امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔تاہم نوبل کمیٹی نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ادارے کے قوانین کے مطابق امن انعام دینے کا فیصلہ حتمی اور مستقل ہوتا ہے جس کے خلاف اپیل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، انعام دینے والی کمیٹیاں ایوارڈ وصول کرنے کے بعد انعام یافتگان کے اقدامات یا بیانات پر تبصرہ نہیں کرتیں۔یہ بھی پڑھیں: نوبل انعام کے دعویدار ٹرمپ نے 2025 میں کتنے ممالک پر بمباری کی؟نارویجن نوبل کمیٹی اور نارویجن نوبل انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ ایک بار جب نوبل امن انعام کا اعلان ہو جائے تو اسے نہ تو واپس لیا جا سکتا ہے، نہ بانٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو منتقل کیا جا سکتا ہے، یہ فیصلہ حتمی ہے اور ہمیشہ کیلیے برقرار رہتا ہے۔پچھلے دنوں وینزویلا کی اپوزیشن رہنما مچاڈو نے کہا تھا کہ ٹرمپ کو یہ امن انعام پیش کرنا وینزویلا کے عوام کی جانب سے صدر نکولس مادورو کی برطرفی پر اظہار تشکر ہوگا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے کسی بھی موقع پر ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی پیشکش کی ہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ابھی ایسا ہوا تو نہیں ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل عرصے سے یہ ایوارڈ جیتنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اسے اپنی سفارتی کامیابیوں سے جوڑا ہے۔مچاڈو کے بیان پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ ہفتے واشنگٹن میں طے شدہ ملاقات کے دوران مچاڈو کی جانب سے یہ انعام پیش کیا گیا تو وہ اسے قبول کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے۔