دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ نے مواد کے حوالے سے اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے اور ہندوستان کے قانون کی پاسداری کا وعدہ کیا ہے۔ دراصل ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر قابل اعتراض مواد کو لے کرمرکزی حکومت نے نوٹس لیا تھا جس کے بعد ایکس پلیٹ فارم نے ان پر کارروائی کی اور انہیں بلاک کر دیا ہے۔’ ایکس‘ نے 3,500 پوسٹس کو بلاک کیا ہے اور 600 اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ’ایکس‘ اپنے پلیٹ فارم پر قابل اعتراض مواد کی اجازت نہیں دے گا اور سرکاری ہدایات کے مطابق کام کرے گا۔عدالت کے فیصلے نے بدل دی قسمت، ایلون مسک کی مجموعی مالیت 700 بلین ڈالر سے تجاوزیہ کارروائی اس واقعہ کے بعد ہوئی ہے جب وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پرموجود قابل اعتراض مواد کو مارک کیا گیا تھا۔ بتاتے چلیں کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ایکس پلیٹ فارم پر سرکولیٹ ہورہے فحش مواد کو لے کر تنازعہ چل رہا ہے۔ کئی اکاؤنٹس’گروک اے آئی‘ کا استعمال کرتے ہوئے فحش مواد تیار کر رہے ہیں، جس پر بہت سے لوگوں نے تنقید کی ہے۔ ہندوستان کے خلاف بکواس کر رہے تھے نوارو، ’ایکس‘ نے کھولی پول تو مسک پر ہی بھڑک اٹھےگروک ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ ہے جسے خود ایلون مسک کی کمپنی’ایکس اے آئی‘ نے تیار کیا ہے۔ اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘ اور الگ سے ایپ انسٹال کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ صارفین ٹیکسٹ کمانڈز یا صوتی اشارے دے کر اپنا کام کراتے ہیں۔حال ہی میں گروک کے ذریعہ تیار کی جارہی فحش تصاویر اور اس کا ایڈیٹنگ فیچر موضوع بحث رہا ہے۔ اس کا غلط استعمال کرکے اے آئی کی مدد سے خواتین اور نابالغوں کی تصاویر کا استعمال کرکے فحش مواد تیار کیا جارہا تھا۔ حکومت نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔