واشنگٹن(11 جنوری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد کینیڈا نے دفاعی تیاریاں شروع کردیں ہیں۔برطانوی جریدے کے مطابق کینیڈا نے امریکی دھمکیوں کو سنجیدہ لے لیا، کینیڈا کی فوج نے عوام کو ہنگامی حالات کیلئے تیار رہنے پر زور دیا ہے۔جنرل کیرگنن کہتی ہیں کہ کینیڈا میں وسائل کی کمی کے باوجود سول ملٹری تیاریاں جاری ہیں، ہنگامی حالات کیلئے 65 سال تک کے افراد بھی چاہئیں، جنگی تیاری کیلئے بھاری آلات، ڈرون اور سائبر آپریٹرز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکا کی طرف سے گرفتاری اور گرین لینڈ پر قبضے کے حوالے سے ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی گفتگو نے کینیڈا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔کینیڈین شہریوں میں یہ خوف بڑھ رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی خودمختاری کے خلاف پرانی دھمکیاں اب سنجیدگی سے لی جائیں۔کینیڈا کے سب سے بڑے قومی اخبار نے اس ہفتے ایک انتباہی مضمون شائع کیا جس میں ٹرمپ کی جانب سے ملک کے خلاف "فوجی جبر” (military coercion) کے استعمال کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مضمون کے مصنفین نے خاص طور پر سول ڈیفنس فورسز کو وسعت دینے اور ایک قومی ڈرون حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس مضمون کے مصنفین میں سے ایک کینیڈین گلوبل سیکیورٹی اسکالر تھامس ہومر ڈکسن نے کہا ہے کہ اگر ہمارے خلاف فوجی جبر کا استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ انتہائی مہنگی ثابت ہونی چاہیے۔ٹرمپ کا گرین لینڈ پر فوجی کارروائی کا منصوبہ بنانے کا حکم