مشرق وسطی میں کشیدگی کی خبروں اور افواہوں کے بعد اتر پردیش میں پٹرول پمپوں پر بھیڑ

Wait 5 sec.

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور جنگ کی خبروں کا اثر اب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ سے متعلق خبروں اور سوشل میڈیا پر پھیلتی باتوں نے اتر پردیش کے کئی اضلاع میں عجیب صورت حال پیدا کر دی ہے۔ بعض علاقوں میں پٹرول پمپوں پر اچانک غیر معمولی بھیڑ دیکھی گئی جہاں لوگ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ڈرم، کین اور گیلن میں بھی پٹرول اور ڈیزل بھروا کر ذخیرہ کرنے لگے۔آج تک پر شائع خبر کے مطابق، کئی مقامات پر عام دنوں میں پرسکون دکھائی دینے والے پٹرول پمپوں کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ لوگ جلد از جلد تیل بھروا لینے کی کوشش میں گھنٹوں انتظار کرتے دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس صورتحال کی متعدد ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پٹرول پمپوں کے باہر گاڑیوں کی لائنیں سڑک تک پہنچ گئی ہیں اور لوگ اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے کھڑے ہیں۔دراصل گزشتہ چند دنوں سے عالمی سطح پر اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ ان خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بات تیزی سے پھیلنے لگی کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی خدشہ آہستہ آہستہ افواہ کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔ کئی علاقوں میں یہ بات پھیل گئی کہ جلد ہی پٹرول اور ڈیزل کی کمی ہو سکتی ہے یا ان کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی خدشے کے تحت لوگوں نے پیشگی طور پر تیل جمع کرنا شروع کر دیا۔اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری میں اس افواہ کا سب سے زیادہ اثر دیکھنے کو ملا۔ ضلع کے مختلف تھانہ علاقوں میں جمعرات کے روز کئی پٹرول پمپوں پر اچانک بڑی تعداد میں لوگ پہنچ گئے۔ یہاں موٹر سائیکل، کار اور ٹریکٹر لے کر لوگ پٹرول پمپوں پر پہنچنے لگے۔ بعض افراد گاڑیوں کے علاوہ پلاسٹک کے کین، ڈرم اور گیلن بھی ساتھ لائے تاکہ زیادہ مقدار میں پٹرول اور ڈیزل جمع کیا جا سکے۔ کئی مقامات پر گاڑیوں کی قطاریں اتنی طویل ہو گئیں کہ سڑکوں پر جام جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ان حالات کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے لگیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پٹرول پمپ کے عملے کو بھیڑ کو سنبھالنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ کچھ جگہوں پر لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے جبکہ کئی افراد دھوپ میں گھنٹوں انتظار کرتے رہے۔اسی طرح بارہ بنکی ضلع میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی ممکنہ کمی کی خبروں نے لوگوں کو بے چین کر دیا۔ یہاں کے کئی پٹرول پمپوں پر بھی اچانک بڑی بھیڑ جمع ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 150 سے زیادہ کسان ڈرم اور کین لے کر ڈیزل بھرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے دکھائی دیے۔ بعض کسان ٹریکٹر لے کر بھی پہنچے تاکہ ایک ہی بار میں زیادہ ڈیزل حاصل کیا جا سکے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت کھیتی کا موسم چل رہا ہے اور زرعی کاموں کے لیے ڈیزل بے حد ضروری ہے۔ اگر اچانک ڈیزل کی کمی ہو گئی یا قیمتیں بڑھ گئیں تو کھیتی پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث وہ پہلے ہی ڈیزل جمع کرنا چاہتے ہیں۔ادھر ضلع انتظامیہ نے اس معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی پوری طرح معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف ضرورت کے مطابق ہی پٹرول یا ڈیزل خریدیں۔ ساتھ ہی یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر افواہ پھیلاتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔