ایران اسرائیل جنگ: انڈونیشی صدر پر امریکا سے دوری اختیار کرنے کے لیے داخلی دباؤ بڑھ گیا

Wait 5 sec.

جکارتہ(7 مارچ 2026): ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کو شدید داخلی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشین عوام اور سیاستدانوں نے صدر پرابوو کی موجودہ پالیسیوں پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن سے فوری طور پر دوری اختیار کریں۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران پر حالیہ کارروائیوں کے بعد انڈونیشیا میں عوامی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔واضح رہے کہ انڈونیشیا نے اب تک اسرائیل کے ساتھ کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے ہیں۔ اس سے قبل ‘پیس بورڈ’ کے تحت صدر پرابوو نے غزہ میں 8 ہزار انڈونیشین فوجی بھیجنے کی پیشکش بھی کی تھی۔تاہم عوام کا ماننا ہے کہ امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات فلسطین اور ایران کے کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مظاہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو امریکا کے زیرِ اثر رہنے کے بجائے ایک آزاد اور دو ٹوک خارجہ پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز انڈونیشیا کے صدر نے واضح کر دیا ہے کہ اگر مجوزہ ‘بورڈ آف پیس’ سے فلسطینی عوام کو کوئی حقیقی اور عملی فائدہ نہ پہنچا تو جکارتہ اس فورم سے علیحدگی اختیار کرنے میں دیر نہیں کرے گا۔انڈونیشین حکام کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی امن اقدام یا فورم کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کے حقوق اور مفادات کا حقیقی تحفظ یقینی بنایا جائے۔