تہران (07 مارچ 2026): ریڈ کریسنٹ نے کہا ہے کہ ایران میں کم از کم 6 ہزار 668 شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں کم از کم 6,668 شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔جنگ میں 5 ہزار 535 رہائشی یونٹس تباہ ہوئے، 1041 تجارتی یونٹس کو نشانہ بنایا گیا، حملوں میں 14 طبی مراکز، 65 اسکول اور 13 ریڈ کریسنٹ سے وابستہ مراکز بھی نشانہ بنے۔رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے دوران متعدد ریسکیو اور امدادی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، جب کہ امدادی کارروائیوں کے دوران ریڈ کریسنٹ کے کئی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںریڈکریسنٹ کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہری انفرااسٹرکچر اور انسانی امدادی کام شدید متاثر ہوئے ہیں۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، آج بھی ایران کے دارالحکومت تہران اور ملک کے دیگر حصوں میں لوگوں کی آنکھ اس وقت کھلی جب زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے ’’غیر مشروط سرنڈر‘‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس دوران تہران اسرائیل اور خلیجی خطے میں اہداف کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بناتا رہا ہے۔ادھر مشرقی وادی بقا میں واقع لبنانی قصبے نبی چٹ پر اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔