کراچی(7 مارچ 2026): ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے باوجود بحران ختم نہ ہو سکا اور کئی شہروں میں پیٹرول پمپس سے ایندھن غائب ہے۔پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ زون کے صدر امیر محسود نے انکشاف کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کوٹہ سسٹم کے تحت پہلے سپلائی میں 50 فیصد کمی کی تھی جسے اب مزید بڑھا دیا گیا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا فوری آڈٹ اور انکوائری کی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سپلائی روک کر کس نے کتنا ناجائز منافع کمایا۔ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یکدم 55 روپے فی لیٹر اضافے سے پیٹرول پمپ مالکان پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے نیا سٹاک خریدنا مشکل ہو چکا ہے۔پی پی ڈی اے کے مطابق حکومت نے اپنا مارجن تو بڑھا لیا ہے لیکن ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے، جو کہ ناانصافی ہے، امیر محسود نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی قلت اور قیمتوں کے مسائل سے پیٹرول پمپوں پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے افسوسناک واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سپلائی اور قیمت کے تنازع پر ہونے والے جھگڑے میں ایک پمپ ملازم قتل ہو چکا ہے۔ ڈیلرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سپلائی فوری طور پر درست نہ کی گئی تو ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔