اسرائیل۔ ایران کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے سے جاری جنگ کے اثرات مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا پر مرتب ہورہے ہیں۔ اس صورتحال سے ہندوستان مستثنیٰ نہیں رہا۔ یہاں کے مختلف شعبوں کو بھی سخت بحران کا سامنا ہے۔ اسرائیل اور ایران جنگ کا براہ راست اثر گجرات کے موربی سیرامک انڈسٹری پر بھی پڑا ہے جو ضروری گیس پر انحصار کرتی ہے اور اس وقت وہ پروپین اور قدرتی گیس کی کمی سے گزررہی ہے۔ یہاں پروپین گیس ختم ہو گئی ہے اور قدرتی گیس بھی بہت محدود مقدار میں بچی ہے۔ اس کے ختم ہونے پر ایسی حالت پیدا ہوجاتی ہے کہ سبھی صنعتوں کو بند کرنا پڑتا ہے۔ایران-اسرائیل کشیدگی کے اثرات، سونے کی قیمت ایک لاکھ روپے فی 10 گرام سے متجاوزانڈسٹری کی موجودہ صورتحال سے لاکھوں مزدوروں کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس دوران موربی سیرامک انڈسٹری میں کام کرنے والے مزدوروں پر لٹک رہی بے روزگاری کی تلوار نے مزدوروں سے لے کر ان کے اہل خانہ تک کو پریشان کردیا ہے۔ ایسے مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہم 4-5 سال سے یہاں کرائے پر رہ رہے ہیں۔ اچانک انڈسٹری بند ہو رہی ہے اور ہماری صنعت تباہ ہو رہی ہے۔ کیا سوچیں اور کیا کریں، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ آگے کیا کرنا ہے؟ یہ بھی معلوم نہیں ہے۔اس سلسلے میں ’این ڈی ٹی وی‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موربی سیرامک انڈسٹریز کے بند ہونے سے 10 لاکھ سے زائد مزدور روزی روٹی سے محروم ہو جائیں گے، جن میں سے 4 لاکھ مزدوربراہ راست طور پر انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور6 لاکھ مزدور بالواسطہ طور پر انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں ہے کہ جنگ کب تک چلے گی اور موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مزدور گھروں کو واپس جانے پر مجبور ہوں گے۔اسرائیل-ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت پر خدشات، اقوام متحدہ کی سفارتی سرگرمیاں تیزجنگ کی وجہ سے سیرامک کی برآمدات پر بھی براہ راست اثر پڑے گا۔ فی الحال موربی سیرامکس میں 30 فیصد ٹائلس کا ایکسپورٹ مارکیٹ ہے جس میں بائیڈو کوئی نہیں خریدے گا۔ جس کی وجہ سے ’ویٹ اینڈ واچ‘کی صورتحال پیدا ہو گی۔ ابھی کنٹینر کرائے میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ اس وقت کنٹینر کرائے میں 2,000 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر براہ راست کنٹینرز کی لوڈنگ اور بندرگاہ پر پہنچنے کی تعداد پر پڑے گا۔ جنگ کی وجہ سے جیسے مرکزی حکومت نے طے کیا ہے کہ روس سے خام تیل درآمد کیا جائے گا، ویسے ہی اگر جوگاس بھی روس سے درآمد ہوجائے تو مستقبل میں انڈسٹری کو راحت مل سکتی ہے۔گیس کے بحران کے درمیان موربی سیرامک انڈسٹری بند ہورہی ہے جس کا براہ راست اثر مزدور طبقے پر پڑرہا ہے۔ موربی سیرامک انڈسٹری میں برسوں سے کام کرنے والے مزدور اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ آبائی علاقوں کو لوٹنے پر مجبور ہیں۔ جو مزدور برسوں سے سیرامک انڈسٹری میں کام کررہے ہیں اور اپنا گزارا کررہے ہیں، وہ بھی پریشان ہیں۔ اپنے خاندان کا پیٹ کیسے پالیں گے، یہ سب سے بڑا سوال ہے۔پیکنگ کی نگرانی کرنے والے ایک ورکر نے کہا کہ میں مدھیہ پردیش سے آیا ہوں، میں یہاں کام کرتا ہوں۔، اب یہ کمپنی بند ہونے والی ہے، ہمارا روزگار کیسے چلے گا، پورے خاندان کے لیے اب ہم کیا کریں گے؟ فیکٹری میں کام کرنے آئے بنگال کے ایک ورکر نے کہا کہ یہاں ہمارے علاقے کے تقریباً 60 لوگ ہیں، سب کرائے پر رہتے ہیں۔ ہم یہاں 4-5 سال سے کام کررہے ہیں، اچانک انڈسٹری بند ہو رہی ہے اور ہماری صنعت ختم ہو رہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا سوچوں یا کیا کروں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ آگے کیا کرنا ہے۔